بڑے منافق اور بے شرم ہیں۔۔۔۔
تحریر: جاوید صدیقی
سلسله احاديث صحیح بخاري ، صحيح مسلم شریف کے عنوان فتنے، علامات قیامت اور حشر میں بیان کیا ھے کہ اس وقت کی دعا، جب لوگ درہم و دینار جمع کرنے میں مصروف ہوں گے۔ حدیث کا ترجمہ : سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”شداد بن اوس! جب تو لوگوں کو سونے اور چاندی کے خزانے جمع کرتے دیکھو تو یہ دعا بکثرت پڑھنا:”اے اللہ میں تجھ سے دین پر ثابت قدمی اور ہدایت پر پختگی کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے تیری رحمت کو واجب کرنے والے اور تیری مغفرت کو لازم کرنے والے امور کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے تیری نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور اچھے انداز میں عبادت کرنے کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے سلیم دل اور سچی زبان کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے ہر اس بھلائی کا سوال کرتا ہوں، جسے تو جانتا ہے، ہر اس برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو تیرے علم میں ہے اور تجھ سے ان تمام گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں جو تیرے علم میں ہیں، بیشک تو غیبوں کو خوب جاننے والا ہے۔“معزز قارئین اس حدیث کو اور مزید سمجھنے کیلئے درہم و دینار کا علم ھونا لازم ھے ۔۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں رائج درہم مختلف وزن کے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے درہم یعنی چاندی کے سکے اور دینار سونے کے سکے کیلئے وزن متعین فرمادیا، پھر وہی وزن درہم و دینار کے وزن کیلئے معیار بن گیا۔
چنانچہ ایک چاندی کے درہم کی مقدار : تین ماشہ، ایک رتی اور رتی کا پانچواں حصہ ہے۔
ایک سونے کے دینار کی مقدار : چار ماشہ اور چار رتی ہے۔ ایک ماشہ میں کل آٹھ رتیاں ہوتی ہیں، ایک تولہ میں کل بارہ ماشے ہوتے ہیں، ایک تولہ میں کل چھیانوے رتیاں ہوتی ہیں، ایک تولہ برابر ہے گیارہ گرام اور چھ سو چونسٹھ ملی گرام کے، ایک ماشہ برابر ہے صفر اعشاریہ نو سو بہتر ملی گرام کے، ایک رتی برابر ہے صفر اعشاریہ ایک سو اکیس ملی گرام کے۔ لہٰذا گرام کے اعتبار سے ایک درہم کی مقدار تین اعشاریہ صفر اکسٹھ گرام، اور دینار کی مقدار چار اعشاریہ تین سو چوہتر گرام ہے، مارکیٹ میں جو سونے اور چاندی کی قیمت ہو اس کے حساب سے دینار اور درہم کی قیمت معلوم کی جاسکتی ہے۔فقط واللہ اعلم ۔۔۔ معزز قارئین!! اس حساب کو بتانے کا مقصد وہی ھے جو احادیث ہمیں آج کے دور میں پیدا ھونے والے فتنوں کی نشاندہی کرتا ھے۔ مسلک ھو یا دین ہر سو بازاری شکل میں تبدیل ھوچکا ھے ہر ایک اپنے اپنے انداز سے دین محمدی ﷺ کا تمسخر اور بدنام کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑ رھا۔ یہ مسلمہ حقیقت ھے کہ عالم اسلام کی دو بڑی جماعتیں اول تبلیغی جماعت دوئم دعوت اسلامی یہ دونوں سالہا سال چندہ عطیات جمع کرنے میں کسی طور سانس تک نہیں لیتیں اور عالم اسلام کے سیدھے سادھے مسلمانوں کو بیوقوف بناکر قرآن و احادیث کے اپنے فوائد تک کے حصے تک محدود و قید میں رکھتی ھیں جبکہ قرآن اللہ کی زبان اور کائنات کیلئے آیا ھے۔ آج وقت جہاد ھے ستاون ممالک تو کجا ان دونوں تبلیغی جماعتوں کا کردار کیا رھا کتنے فلسطین اور مسجد اقصیٰ کی حرمت و سلامتی کیلئے جہادی گروپ تیار کئے کتنے جہادی قافلے نکل پڑے اللہ انہیں ضرور پوچھے گا جب وقت جہاد ھوجائے تو نماز روزہ میں جنگی میدان میں پورا کیا جاتا ھے کہاں مرگئے ان سب کے مفتیان و علماء کرام اب کیوں نہیں دیتے فتوی کہہ جہاد فرض ھوچکا ھے اور جہاد فرض عین ھے۔ یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ کفار و مشرکین غیر مسلم قوتیں اسلام اور اسلامی ریاستوں کو ڈھانے کیلئے حملہ آور ھوچکی ھیں اس حال میں کمزور حماس اور حزب اللہ کا بھرپور طریقہ سے ساتھ دیا جائے اور جہادی لشکر میں شریک ھوکر دشمن کو واصل جہنم پہنچادیا جائے۔ تحریک لبیک پاکستان، سنی تحریک پاکستان، جماعت الدعوہ، جماعت اسلامی، جیش محمد لشکر طیبہ کو اپنے اپنے جہادی لشکر فوری روانہ کردینا چاہئے، افسوس کا مقام تو یہ ھے کہ پاکستان کا بدترین دشمن امریکہ اسرائیل برطانیہ اور بھارت نے ہمیشہ ھماری دینی مذہبی جہادی تنظیموں پر جھوٹے الزامات لگا کر ہماری ہی ریاست سے کبھی کلعدم تو کبھی غدار قرار دلوایا جبکہ یہ صاف و شفاف عیاں ھے کہ امت مسلمہ کو کمزور کرنے کیلئے ان چاروں زائیسنٹ ممالک جنمیں امریکہ، اسرائیل، برطانیہ اور بھارت نے یکجا ھوکر مسلم ممالک کو ڈھانے کا سلسلہ شروع کردیا ھے اور اب اس وقت فلسطین یمن اور شام کو ہدف بنا رھے ھیں جو آہستہ آہستہ دیگر اسلامی ممالک کو اپنے وحشی پن کے ذریعے ڈھا کر اپنے آقا دجال کیلئے راہ ہموار کررھے ھیں جو مسجد اقصیٰ کو ڈھا کر اس جگہ ٹیمپل سلمانی تیار کرنا ھے جہاں مردود و ملعون دجال بیٹھے گا، اب بھی یہ چندہ خیرات زکواة فطرہ اور عطیات جمع کرنے والے کب بیدار ھونگے ، کب اپنا ایمان جگائیں گے اور کب جہاد کیلئے خود اپنی کمان میں فلسطین لشکر لیکر جائیں گے اگر ان سب نے جہاد فی سبیل اللہ پر لبیک نہ کہا تو جان لیجئے یہ منافق فاجر و فاسق ھونے کے ساتھ ساتھ دین کے بدترین دشمن ثابت ھونگے ۔۔ دعا ھے کہ اللہ مجھے دین محمدی ﷺ کا مجاہد بنائے اور شہادت کی موت نصیب فرمائے آمین یا رب اللعالمین
