BBC Urdu TV

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کا حسینہ واجدکو وطن واپس لانے پر غور

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے حسینہ واجدکو وطن واپس لانے پر غور شروع کر دیا۔

بنگالی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و طلبہ رہنما ناہد اسلام نے کہا کہ طلبہ حسینہ واجد کے دور میں ہونے والی ہلاکتوں پر انصاف چاہتے ہیں، یہ طلبہ کے انقلاب کے مطالبات میں سے ایک اہم مطالبہ ہے، عبوری حکومت کی پہلی ترجیح صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت میں ہونے والی مبینہ کرپشن کی تحقیقات ضروری ہیں، انتخابات سے قبل ملک میں انتخابی اور آئینی اصلاحات کی ضرورت ہے، بھارت نے عوام کے بجائے حسینہ واجد کی عوامی لیگ کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیا، بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں، نئی دہلی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرے۔

واضح رہے 26 سالہ ناہد اسلام ڈھاکہ یونیورسٹی میں سوشیالوجی کے طالب ہیں، اس کے علاوہ وہ ایک انسانی حقوق کے کارکن بھی ہیں جو سوشل میڈیا اور عوام میں کافی مقبول ہیں، اس لیے انہیں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں وزیر بنایا گیا ہے۔

Exit mobile version