BBC Urdu TV

بنگلہ دیش: صدرشہاب الدین نے پارلیمنٹ تحلیل کردی

بنگلہ دیش کے صدرشہاب الدین نے پارلیمنٹ تحلیل کردی۔

بنگلا دیشی سابقہ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے استعفے اور ملک سے فرار ہونے کے بعد طلبا تحریک نے فوجی قیادت یا حمایت والی حکومت قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے پارلیمنٹ دوپہر 3 بجے تک تحلیل کرنے کا الٹی میٹم دیا گیا تھا۔

طلبہ تحریک کے رہنما ناہید اسلام نے کہا ہے کہ ہمیں بنگلہ دیش میں فوج کی حمایت یافتہ حکومت قبول نہیں ہے، ملک میں عبوری حکومت بنانی ہے تو اس کا خاکہ ہم دیں گے۔

طلبہ تحریک کے رہنما ناہید اسلام، آصف محمود اور ابوبکرمازوم دار نے ویڈیو پیغام کے ذریعے عبوری حکومت کا خاکہ جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کے زیر سربراہی عبوری حکومت قائم کی جائے۔

ناہید اسلام نے کہا کہ طلبہ پہلے ہی ڈاکٹر یونس سے بات کرچکے ہیں اور وہ عبوری حکومت میں کردار پر آمادگی ظاہر کرچکے ہیں، دیگرنام آج صبح دیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں :بنگلہ دیش: طلبہ کا فوجی حکومت قبول کرنے سے انکار، عبوری حکومت کا خاکہ پیش

ملک میں اتوار تک پرتشدد مظاہروں میں 300 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد حسینہ واجد نے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا تھا اور آرمی چیف وقار الزمان نے آج ملک میں عبوری حکومت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

پیر کو بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے فوجی قیادت سے ملاقات میں مختلف سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی پر مشتمل عبوری حکومت قائم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

اس سلسلے میں فوج سے کہا گیا تھا کہ وہ جاری لوٹ مار بند کرائے اور قانون کی بلادستی بحال کرائی جائے۔

آرمی چیف وقار الزمان نے بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے افراد سے ملاقاتیں بھی کی تھیں اور عبوری حکومت جلد قائم ہونے کا عندیہ دیا تھا، وہ طلبہ اور اساتذہ سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

ادھر بھارتی میڈیا کے مطابق بنگلہ دیش کی مستعفی وزیراعظم نے برطانیہ سے سیاسی پناہ کی درخواست کردی ہے جبکہ ان کی بہن شیخ ریحانہ کے پاس پہلے ہی سے برطانیہ کی شہریت ہے، دونوں بہنیں اس وقت بھارت میں ہیں۔

بنگلہ دیش میں 1971 کی جنگ لڑنے والوں کے بچوں کو سرکاری نوکریوں میں 30 فیصد کوٹہ دیے جانے کے خلاف گزشتہ ماہ کئی روز تک مظاہرے ہوئے تھے جن میں 200 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد سپریم کورٹ نے کوٹہ سسٹم کو ختم کردیا تھا۔

Exit mobile version