بندہ مومن کی زندگی ایسے گزرے کہ اسے یہ خیال رہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔
یہ کیفیت یہ حضوری اور یہ نسبت رب العالمین سے اگر مضبوط ہو جائے تو پھر ہمارا لین دین،قول و فعل،ظاہر و باطن عین دین اسلام کے مطابق ڈھل جائے گا۔ایمان بالغیب ایسا نصیب ہو جائے کہ بندہ مومن اپنے رب کے حضور ایسے سجدہ ریز ہو کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے یہ کیفیت بندہ مومن کو تب نصیب ہوتی ہے جب اس کے قلب میں برکات نبوت ﷺ جاگزیں ہوں۔
شیخ سلسلہ امیر عبدالقدیر اعوان کا اسلامک سنٹر دی ہاگ نیدرلینڈ میں سراجا منیرا کانفرنس سے خطاب
انہوں نے کہا کہ نماز ہمیں اس قابل کرتی ہے کہ بندگی نصیب ہو۔ہم دنیاوی زندگی کی آسائش کے لیے سالوں محنت کرتے ہیں اور جب بات آئے نماز کی تو وہ ہمیں بوجھ لگتی ہے نماز تو مومن کی معراج ہے اللہ کریم سے ہمکلامی ہے۔جب نماز کا اہتمام کریں گے پھر نماز بوجھ نہیں لگے گی نماز اس لیے ادا کریں کہ میرے اللہ کریم کا حکم ہے اس نے میرے لیے پسند فرمائی ہے۔ہمارے لیے یہ فخر ہونا چاہیے کہ نماز میرے اللہ کی عطا ہے یہ بندگی سے آشنا کرتی ہے۔ہر تعلق کا ایک اپنا درجہ ہوتا ہے جیسے والدین کا تعلق ہے دوست احباب سے تعلقات ہوتے ہیں۔ہمارا مالک کائنات سے اتنا تعلق بھی نہیں کہ ہم اس کے حکم پر سرتسلیم خم کر لیں۔ہم نمازادا کریں گے تو ہماری اولادیں ہمیں دیکھ کر نمازی بنیں گی وہ ہمیں رکوع و سجود کرتے ہوئے دیکھیں گے تو وہ بھی اللہ کی بارگاہ میں اپنا سر رکھیں گے۔کیا ہم اپنی اولاد کو یہ ترغیب دے رہے ہیں یا اسے بے سہارا معاشرے کی اندھیوں کے حوالے کر دیا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں
آخر میں انہوں نے امت امسلمہ کے اتحاد و اتفاق کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔
