بندہ مومن کااس دار دنیا میں ہر وقت امتحان ہے۔ہمیں ہر وقت اپنے رب سے دنیا و آخرت کی بھلائی کا طالب ہونا چاہیے۔جب بھی کوئی بندہ برائی کرتا ہے تو اس کا یہ عمل اس کے ارد گرد کے لوگوں کے لیے خرابی کا سبب بنتا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے کہ خشکی اور تری میں فساد حضرت انسان کے اعمال کے سبب کے نتیجے میں ہے۔دین اسلام سے دوری کی وجہ سے ہم بحیثیت امتی اتحاد اور اتفاق سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ہم دوسروں کے حقوق کے لیے اپنے حصے کے فرائض ادا نہیں کر رہے جس کی وجہ سے معاشرے میں انتشار اور بے سکونی ہے
اس سب کے تدارک کے لیے ہمیں دین اسلام پر عمل کرنا ہوگا۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا بریڈ فورڈ (برطانیہ) دارالعرفان میں جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
انہوں نے کہا کہ دین اسلام میں کوئی ایسا حصہ نہیں ہے جس میں ہمارے لیے راہنمائی موجود نہ ہو۔ اگر ہم دین کو سمجھیں گے نہیں سیکھیں گے نہیں عمل نہیں کریں گے تو وہ جو امت کے اتفاق اور اتحاد کی کیفیت ہے وہ ہم تک کیسے پہنچے گی۔جو والدین اور بھائی بہن کے حقوق ہیں وہاں تک ہم کیسے پہنچیں گے؟آج کے دور میں ہم دین اسلام کے سنہری ارشادات کو چھوڑ کر یہ چاہتے ہیں کہ جو ہم کہہ رہے ہیں اس پر عمل کیا جائے ہماری پسند کے مطابق لوگ چلیں ہمیں فالو کریں۔یہ صرف اللہ کریم کو سزاوار ہے کہ وہ ایک ذات ایسی ہے جس کی مانی جائے۔ہماری بنیاد قرآن ہے ہم اگر قرآن کریم کے مطابق زندگی کو ڈھال لیں تو ہم ہر معاشرے میں ایک مثالی لوگ ہوں جن سے انسانیت کو فائدہ ہو۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد اور فلسطین کے مسلمانوں کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔
