BBC Urdu TV

برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک نہ بڑھایا گیا تو ملک قرضوں کے جال میں جکڑا رہے گا:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

*برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک نہ بڑھایا گیا تو ملک قرضوں کے جال میں جکڑا رہے گا:انجینئر ندیم ممتاز قریشی*

*ایکسپورٹ میں اضافے کیلئے مستقل معاشی پالیسیوں کی ضرورت، سال بہ سال کے اہداف مقرر کیے جائیں:گفتگو*
*ٹیکسٹائل انڈسٹری سے منسلک تقریباً 70 لاکھ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں اس شعبے کی مشکلات کو دور کیا جائے:چیئرمین*
*چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی کی ملکی برآمدات میں اضافے اور معاشی بحالی کے حوالے سے خصوصی گفتگو*
( )چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ ملکی برآمدات کا حجم 100 ارب ڈالر تک نہ بڑھایا گیا تو پاکستان اسی طرح قرضوں کے جال میں پھنسا رہے گا،حکومت نے اڑان پاکستان کے اہداف میں برآمدات کو آئند پانچ برس میں 30 ارب سے 60 ارب تک لے جا نے کا ہدف مقرر کیا ہے جو بظاہر مشکل تو ہے مگر نا ممکن نہیں اس کے لیے ایک جامع اور مستقل معاشی پالیسی کی ضرورت ہے جس میں دیرپا اہداف کی بجائے سال بہ سال کے اہداف مقرر کر کے ان کے حصول پر توجہ دی جانی چاہیے،رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ زرعی اجناس میں چاول کی برآمدات میں 35.4فیصد پھلوں اور سبزیوں میں 12 فیصد اور چینی کی برآمدات میں 834 فیصد کا اضافہ ہوا اگر اس شعبے کی بھرپور سرپرستی کی جائے تو یہ برآمدات میں خاصا اضافہ کرسکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار ملکی برآمدات میں اضافے اور معاشی بحالی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور توانائی بحران کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری سے منسلک تقریباً 70 لاکھ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں اس شعبے کی مشکلات کو دور کرکے جہاں بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی عفریت پر قابو پایا جاسکتا ہے وہاں ملکی معیشت کو بھی اس سے سہارا ملے گا۔ انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ ملکی معیشت کی بہتری کیلئے حکومت اور اپوزیشن کو خلوص نیت اور جذبہ حب الوطنی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
02-01-2025

Exit mobile version