BBC Urdu TV

بدنامِ زمانہ ایس ایچ او تھانہ گلستانِ جوہر پیر شبیر نے تھانے کے اندر ہی خواب گاہ بنا ڈالی

بدنامِ زمانہ ایس ایچ او تھانہ گلستانِ جوہر پیر شبیر نے تھانے کے اندر ہی خواب گاہ بنا ڈالی۔*

*سائلین اور عوام الناس کا ایس ایچ او کے کمرے میں داخلہ ممنوع۔*

*صاحب میٹنگ میں ہیں ۔ صاحب مصروف ہیں۔ صاحب کھانا نوش فرما رہے ہیں۔ کمرے کے باہر پہرا دینے والے سپاہی کے سائلین کو جوابات-*

کراچی
(رپورٹ:اشتیاق سرکی)

ایس ایچ او پیر شبیر نے تھانے کے اندر اپنے سرکاری دفتر کے اندر بیڈ روم بنا ڈالا جس میں اپنے شوق کے مطابق نت نئی اور رنگ برنگی مچھلیوں اور تتلیوں سے دل لبھانے میں مصروفِ عمل۔ پیر شبیر کھلا کھاؤ اور ننگا نہاؤ کی پالیسی پر عمل پیرا۔

تھانے کے اندر ہی سیف ہاؤس میں شباب اور کباب کی محفلیں اور رنگ رلیاں آئے روز کا معمول ۔ ایس ایچ او کا سائلین سے ملنے اور مسائل سننے تک سے انکار۔

متعلقہ علاقے کا یہ ہال ہے کے فحاشی، جوا اور منشیات کے اڈوں کو نہ صرف مکمل چُھوٹ دے دی گئی ہے بلکہ انکو مکمل تحفظ کی یقین دہائی کروا دی گئی ہے۔ اور اسی لیے گلستانِ جوہر کے علاقے میں نہ صرف پہلے سے چلنے والے اڈے دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں بلکہ دوسرے علاقوں کے جرائم پیشہ گروہ بھی پیر شبیر کی رنگین اور کماؤ پوت طبیعت دیکھتے ہوئے گلستانِ جوہر میں اپنے نئے اڈے قائم کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ ایس ایچ او ڈیفنس کے مختلف تھانوں میں طویل عرصے تک تعینات رہ چکا ہے۔ جہاں پر اس نے فہاشی کے اڈوں کی بھرپور سرپرستی کے ساتھ ساتھ وہاں پر بڑے بڑے سیاسی اور بااثر لوگوں کے لیے شباب و کباب کی سہولیات مہیا کرتا رہا ہے جس کی وجہ سے اس پر خاص نظرِ کرم کی گئیں۔ اور اس کو اپنی من چاہی تعیناتیاں ملتی رہیں۔

اب گلستانِ جوہر تھانے میں تعیناتی کے بعد اس نے اس علاقے میں بھی وہی سرگرمیاں اختیار کر رکھی ہیں۔ گلستانِ جوہر تھانے کے متاثرین نے ایس ایس پی ایسٹ، ڈی آئی جی ایسٹ، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور آئی جی سندھ سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس ایس ایچ او کو فلفور معطل کرکے انکوائری شروع کی جائے بصورت دیگر عوام الناس اپنے اس نوکر کو خود پٹا ڈالنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

Exit mobile version