بدترین لوڈشیڈنگ کا پانی کی کمی یا زیادتی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔حبیبہ شرافت
گلگت بلتستان میں بجلی کی بحران کی بنیادی وجہ اس خطے پہ مسلط کالونیل نظام حکومت ہے۔نائب صدر خواتین ونگ گلگت بلتستان
گلگت بلتستان(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی خواتین ونگ گلگت بلتستان کی نائب صدر حبیبہ شرافت نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بجلی کے ناقص نظام اور بدترین لوڈ شیڈنگ کا پانی کی کمی یا زیادتی سے کوئی تعلق نہیں جی بی میں بجلی کی بحران کی بنیادی وجہ اس خطے پہ مسلط کالونیل نظام حکومت ھے جس کا اصل مقصد یہاں کے باشندوں کو بنیادی انسانی ضروریات فراہم کرنا نہیں بلکہ اس نظام میں تمام تر اختیارات افسرشاہی کے پاس ھونے کی وجہ سے ان اختیارات کو مقامی عوام کی ترقی کیلئے استعمال میں لانے کی بجائے عوام کو دبانے اور عوامی بجٹ کو اپنی شان و شوکت اور عیاشی کیلئے استعمال میں لایا جاتا ہے اس کالونیل افسر شاہانہ نظام کی سب سے بڑی خامی یہ ھے کہ اس میں جواب طلب کرنے، پوچھ گچھ کرنے، کرپشن، بد عنوانی، اختیارات کے غلط استعمال پہ سزا و جزا کا کوئی میکنزم نہیں۔ یہی وجہ ھے کہ دوسرے محکموں اور اداروں کی طرح اس محکمہ برقیات میں بھی شروع دن سے بجلی کے منصوبوں کے نام پہ ناقص اور غیر معیاری پراجیکٹس کا ایک نہ ختم ھونے والا سلسلہ شروع ہوا ۔جی بی کے کم و بیش تمام اضلاع میں تیار ھونے والی بجلی کے پراجیکٹس نالہ جات میں تعمیر کیے گئے ہیں جو سالانہ سیلاب،لیڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سالانہ مرمت اور اورہالنگ کی ضرورت ھوتی ھے اور بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے سالانہ مختص بجٹ کسی نئے پراجیکٹ پہ لگانے کی بجائے پرانے خراب منصوبوں کی تعمیر و مرمت پہ خرچ کیا جاتا ھے اور بجلی کے کسی نئی پراجیکٹ کیلئے رقم بچتا ہی نہیں ان ناکام اور ناقص منصوبوں کے پیچھے محکمے کے اعلیٰ افسران متعلقہ پراجیکٹ کے ٹھیکیدار ،حلقے کا ممبر اور وزراء اور ان منصوبوں کی اور خود افسران کی نگرانی کا دعویٰ کرنے والے نامعلوم افراد بھی ان ناکام منصوبوں پہ اٹھنے والے کروڑوں اربوں کی رقومات میں اپنا اپنا حصہ لیکر رفو چکر ھو جاتے ہیں اور بجلی کے یہ درجنوں نام نہاد و ناکام منصوبے کھنڈرات کی شکل میں ہمارے سامنے پڑے ھوئے ہیں گلگت جو کالونیل انتظامیہ اور حکومت کا ہیڈ کوارٹر ھے یہاں شروع میں کارگہ نالا میں ایک درجن سے زیادہ بجلی پاور ہاؤسز تعمیر کئے گئے مگر ان منصوبوں پہ اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود یہ سارے کے سارے ناقص منصوبہ بندی اور کرپشن کے شکار ھو گئے اس کے بعد افسرشاہی نے کارگہ نالا کو چھوڑ کر نلتر میں پراجیکٹ لگانا شروع کیا اس وقت نلتر میں 18 میگا واٹ، 14, میگا واٹ، 16 میگا واٹ کے پاور ہاؤسز تعمیر کئے گئے ہیں ان منصوبوں پہ اربوں روپے پانی کی طرح بہایا گیا اور حکومتوں کی طرف سے بلند بانگ دعویٰ کیا گیا کہ ان منصوبوں سے بجلی کی پیداوار شروع ھونے کے بعد گلگت ڈسٹرکٹ میں بجلی کا بحران ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ھو جائے گا 18 میگا واٹ اور 14 میگا واٹ کے پاور ہاؤسز کسی چائنیز کمپنی نے تعمیر کئے تھے اور آزمائشی طور پہ شروع میں دو سالوں تک ان پاور ہاؤسز سے بجلی کی فراہمی چین کی کمپنی فراہم کرتی رہی اور گلگت کے لاکھوں لوگ گواہ ہیں کہ جب یہ یہ پاور ہاوسز چین کی کمپنی کے کنٹرول میں رہے گلگت ڈسٹرکٹ میں ان دو سالوں میں کبھی ایک گھنٹے کیلئے بھی لوڈ شیڈنگ نہیں ھوئی۔ مگر جیسے ہی نلتر کے پاور ہاؤسز مقامی افسرشاہی کے کنٹرول میں دئے گئے تو سردیوں میں بجلی کا بحران تیز ھونے لگا جو کہ آج سردیوں کے علاؤہ گرمیوں میں بھی لوڈ شیڈنگ اپنے عروج پہ ھے اس کا مطلب یہ ھوا کہ محکمہ برقیات کی افسرشاہی بدعنوان ہونے کے ساتھ ساتھ نااہل بھی ہے وہ بجلی کی کسی ایک پاور ہاؤس کو بھی ٹھیک طرح سے چلانے کی اہلیت نہیں رکھتے جی بی میں بجلی کے بحران پہ نظر رکھنے والے ناقدین کا کہنا ھے کہ صرف بجلی کے ان ناکام منصوبوں جن پہ تعمیر اور مرمت کے نام پہ اب تک کئے سو ارب روپے ندی نالوں میں دفن کئے گئے مگر ان میں سے کسی بھی ناکام منصوبے کے زمہ دار افسران کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ھے اور نہ ان سے کرپشن کے رقومات برآمد کی گئی ھے۔ان ناقدین کے محتاط رپورٹس کے مطابق محکمہ برقیات کے ان بدعنوان افسروں ، بڑے ٹھیکیداروں اور احتساب کے زمہ دار اہلکاروں نے اسلام اباد، بحریہ ٹاؤن اور بیرون ملک کروڑوں کے اثاثہ جات بنائے ہیں اس کا واضع مطلب یہ ھوا کہ سرمایہ داری نظام کے اندر عوام کی بنیادی ضروریات کے لئے مختص رقومات پہ چند افسران ، وزراء اور دیگر ذمہدار لوگ عیاشی کرتے ہیں مگر اس کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔
