BBC Urdu TV

باجوڑ: ورکرز کنونشن میں دھماکا، جے یو آئی کے امیر سمیت 40 جاں بحق، درجنوں زخمی

باجوڑ: باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام کے ورکرز کنونشن میں خودکش دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں تحصیل خار کے امیر مولانا ضیاء اللہ جان سمیت 40 افراد جاں بحق جبکہ 80 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ کے صدر مقام خار میں دھماکا اس وقت ہوا جب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے زیر اہتمام ورکرز کنونشن جاری تھا، کنونشن میں ایم این اے جمال الدین اور سابق سینیٹر عبدالرشید سمیت کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جمال الدین اور عبدالرشید محفوظ رہے۔

زخمی ہونے والوں کو طبی امداد کیلئے قریبی جبکہ شدید زخمی ہونے والے افراد کو پشاور ہسپتال منتقل کر دیا گیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا، باجوڑ، تیمرگرہ، سوات اور پشاور کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

ترجمان ریسکیو 1122 نے بتایا ہے کہ باجوڑ دھماکے کے شدید زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کر دیا گیا، زخمیوں کو آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کیا گیا ہے، 7 ایمبولینسز پشاور کے باچا خان ائیر پورٹ پر تعینات کی گئی ہیں۔

ترجمان لیڈی ریڈنگ ہسپتال نے بتایا کہ باجوڑ دھماکے کے بعد ایل آر ایچ میں عملہ کو الرٹ کر دیا گیا، ایمرجنسی مکمل طور پر فعال اور تمام عملہ موجود ہے، باجوڑ سے زخمیوں کو پشاور منتقل کرنے پر ہر قسم کا علاج معالجہ کیا جائے گا، ایمرجنسی سمیت آئی سی یو اور اور دیگر وارڈز بھی تیار ہیں۔

آئی جی خیبرپختونخوا اختر حیات گنڈاپور نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دھماکہ خودکش تھا، بمبار کے جسمانی اعضاء مل چکے ہیں، جاں بحق 19 افراد کی شناخت ہو چکی، مزید کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے، خیبرپختونخوا پولیس دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد اعظم خان نے باجوڑ میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کی اور پولیس حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی، وزیر اعلیٰ نے دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا اور زخمیوں کو بہترین طبی امداد کی فراہمی کی ہدایت کی۔

سیاسی رہنماؤں کی مذمت

جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے جلسے میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک کے حالات خراب کیے جا رہے ہیں، جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ پرامن سیاسی جدوجہد کا راستہ اپنایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دھماکے میں شہید کارکنان کی خبر سے صدمہ پہنچا ہے، جماعتی کارکن ہمارا قیمتی نظریاتی اثاثہ ہیں، زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہوں، انصار الاسلام کے رضاکار خون دینے کیلئے فوری ہسپتال پہنچیں۔

Exit mobile version