ٹائٹل: بیدار ھونے تک
اے پاکستانیو!! خدارا شخصیت پرستی سے باہر نکل آؤ۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
ماضی سے تا حال ھماری قوم شخصیت پرستی کے گناہ کبیرہ میں مبتلا ھیں اور حیرت و تعجب کی بات یہ ھے کہ یہ شخصیات نہ کوئی ولی کامل ہیں نہ ہی بزرگارِ دین ہیں تو جھوٹے فاسق منافقوں کے سردار پاکستانی سیاستدان ان میں جئے بھٹو کی شخصیت پرستی ھوئی۔ بینظیر ذرداری اور بلاول کی بھی شخصیت پرستی کے گن گاتے رھے ہیں۔ ساڈا نواز اور مریم کی شخصیت پرستی۔ مہاجروں کے رہبر الطاف حسین کی شخصیت پرستی اور اب عمران خان کی شخصیت پرستی کی جارھی ھے۔ اس کے علاوہ مولانا فضل الرحمٰن اور امیر سراج الحق بھی اس اعزاز سے محروم نہیں۔ ھم عوام عقل و شعور سے خالی قوم ھیں اس ملک اور قوم کی بقاء و سلامتی اسی میں ھے کہ ان جھوٹے فتنہ باز منافق تمام کے تمام سیاسی جماعتوں کے سیاسی رہنماؤں سے خود کو مکمل الگ کرنا ناگزیر بن چکی ھے کیونکہ پاکستان میں جمہوریت بھی مافیا بن گئی ھے۔ دیگر سیاستدانوں کی طرح عمران خان بھی بہت بڑا جھوٹا اور منافق ھے آج ممکن ھے انہیں میری بات سمجھ نہ آئے لیکن بہت جلد یہ قوم اپنی آنکھوں سے اسے بھی گندہ غلیظ رہبر پائے گی ۔۔۔معزز قارئین!! بروز جمعرات پچیس اگست سنہ دو ہزار بائیس کی دوبیر کوہستان میں پانچ بھائی سیلابی ریلے کے بیچوں بیچ پورے چار گھنٹے زندگی اور موت کے درمیان جھولتے رہے، سوشل میڈیا پر بھرپور دہائیوں کے باوجود صوبائی حکومت ایک ہیلی کاپٹر پشاور سے نہ بھیج سکی جسے آنے اور جانے میں فقط ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ ہی لگتا یوں بیچ منجھدار ایک ہی خاندان کے چار جوان دیکھتے ہی دیکھتے سیلابی موجوں کے نذر ہوگئے اور ایک آدھ جیسے تیسے بچ نکلا۔ زندگی کی امید اور موت کے وہم کا یہ درمیانی عرصہ گو کہ ہمارے لئے ایک مختصر دورانیہ تھا، لیکن ان +بے یار و مددگار بھائیوں کیلئے یہ وقت کس قدر طویل اور کٹھن رہا ہوگا۔۔؟ کنارے کھڑے تماش بین ان کے ورثاء کیلئے یہ کیسی قیامت کی گھڑیاں رہی ہونگی۔۔؟اور اب اس پسماندہ گھرانے میں سوگ کا کیا سماں ہوگا۔؟ ہمیں ان چاروں جوانوں کی اس اندوہناک موت پر نہیں، ہمیں مل بیٹھ کر ریاست اور نظامِ حکومت، حکمران اور ان میں منقسم رعایا کی بے حسی اور ناکامی پر بین کرنا چاہئے۔مل کر سر پیٹنا چاہئے، اور دردناک ایسے انجام کی اپنی اپنی باری کا انتظار کرنا چاہیئے ۔۔۔!!
