ایک نیوز چینل کا بازاری اور گھٹیا ہیڈ
تحریر جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی
صحافت ایک مہذب، باوقار اور معتبر پیشہ ھے لیکن جب صحافتی دنیا میں کاروباری لوگ آجائیں تو کہاں کی صحافت کہاں کی شرافت بس اس شعبہ کے پشت پر بڑے بڑے منفی کام ھوتے رھتے ھیں جیسے ریاست کو بلیک میل کرنا ، خریدار اور پالتو اینکروں کے ذریعے بھوکنا چلانا شور مچانا الزام تراشی اور تہمت گری کرنا اپنی خواہشات اور نفس کی تسکین پہنچانا اس میڈیا انڈسٹری کا خاصہ ھے۔ ان مالکان کے سب سے خاص وہ ھوتے ھیں جو انکی ہر جائز ناجائز خواہشات کی تکمیل کیلئے ایک جانب اپنی عزت تار تار کرواتے ھیں تو دوسری جانب بھڑوت گری کا بھرپور کردار ادا کرتے ھیں ایسے لوگ شعبہ صحافت سے تعلق تو نہیں رکھتے مگر میڈیا مالکان انہیں شعبہ صحافت کا ہیڈ بنادیتا ھے تاکہ اچھی طرح بھڑوا بن کر ثابت کرے۔ پاکستان کے ایک بڑے نجی سٹلائٹ چینل کا ہیڈ جو پستہ قد اور گنجا ھے جسے میمن نے رکھا ہی اسی لیئے ھے کہ وہ خواتین ھوں یا مرد اینکرز سب کی تذلیل کرے اور انہیں مالک میمن کے تلوے میں گرائے۔ سابقہ کئی اینکرز نے اس بات کو خود وڈیو بیان میں کہا تھا کہ تمام چیبل میں کوئی ایک بھی اس قدر گھٹیہ اور بھڑوا نہیں جو یہ پست قد اور گنجا نیوز ہیڈ ھے۔ اس پست قد اور گنجے نے سات سال سے زائد عرصہ بیت گیا اسٹاف کی سیلری بڑھنے نہیں دی حال ہی میں جب بوٹ والوں نے ڈنڈا چڑھایا تھا تو 50 ہزار سے کم والوں کو آٹے میں نمک کے برابر تنخواہ میں اضافہ کیا لیکن 50 ہزار سے زائد تا حال منتظر ھیں۔ اکثر میڈیا پرسن جو اس چینل سے تعلق رکھتے ھیں اس پستہ قد والے کو کنجر کے نام سے پکارتے ھیں، کچھ کا تو یہ بھی کہنا ھے کہ اس نے مالکان کی خاص وڈیوز بنا رکھی ھیں تب ہی اس کے تمام کنجر پن کو مالک میمن برداشت کررھے ھیں اور کچھ کہتے ھیں کہ مالک خود جان بوجھ کر ایسوں بدکردار کو منصب اعلیٰ پر فائز کیا ھوا ھے بحرکیف آج کل جو بدترین میڈیا انڈسٹریز کے اخلاقی حالات ھیں اسکی وجہ ایسے چند ایک ہیڈ ھیں۔ میڈیا انڈسٹری ایک غلیظ کیفے بن چکی ھے اس میں ایک ہی شعبہ صاف ستھرا صحافت تھا جو مالکان نے ایسے گنجے پست قد کے ہیڈ کو بااختیار کرکے پرگندہ بنادیا۔ پاکستانی میڈیا انڈسٹری اسی وقت صاف و شفاف ھوگی جب اسے ریاست کے ماتحت سالانہ آڈٹ رپورٹ پیش کرنے پڑے جب تک ریاست میں انہیں کھلی چھٹی ملی ھوئی ھے تب تک یہ اپنے اسٹاف بلخصوص چھوٹے اسٹاف کو انسان کے بجائے جانور سے بھی کم سمجھتے ھیں اور انتہائی انسان سوز رویہ اپنائے جاتے ھیں ظاہر میں بڑے بڑے مہذب پروگرام کرکے عوام اور ریاست کو خوب بیوقوف بنایا جاتا ھے اور دھوکہ دیا جاتا ھے۔ ان چینلز میں صحافت زر خرید غلام ھوچکی ھے جو اتنی آسانی سے ختم نہیں ھوسکتی گویا اب میڈیا انڈسٹری ایک منفی خطرناک مافیا بن چکا ھے ریاست کی بقاء کیلئے اس کا خاتمہ ناگزیر ھے۔۔۔ !!