BBC Urdu TV

ایک قوم ، ایک منزل

یومِ پاکستان، تجدید عہد و پیمان

دیکھو تو ذرا

دن ہے یہ کیسا

ہر سو بیکھیرتا

خوشبوؤں کے جیسا

یہ دن ہے پاکستان کا

تجدیدِ عہدو پیمان کا

اس دن کی میں کیا تعریف کروں

یہ خود آپ مظہر اپنی شان کا

اس ملک میں بسنے والوں کی

ہر سانس میں ہے بستا پاکستان

روم، روم گواہی دیتا ہے

تو ہی سب کا دل،

تو ہی سب کی جان

سر زمینِ پاکستان

بن گئی ہے اک پہچان

اس میں وفا کے رنگ ہیں

عزم، حوصلے، جذبوں کی سر بلندی

اور ارادے ایسے،، جیسے تیر کمان!

ہر مشکل سے لڑ جانے کی

ملتی ہے نئی طاقت یہاں

ہر غم کو بھول جانے کی

اب پڑ گئی ہے عادت یہاں

اور فائدہ بھی کیا ہے، دلوں کو جلانے کا

جو ہوا ۔۔۔ سو ہوا

کیوں چھیڑیں قصہ گزرے زمانے کا

اب ہاتھوں میں تھامے ہاتھ

ہے وقت آگے بڑھ جانے کا

ہسنے کا، ہسانے کا

مل کر خوشیاں منانے کا

جو ہیں اُداس، سن لیں۔۔۔

گھڑی وہ بھی آرہی ہے

جب بننے لگیں گے بگڑے کام

کیونکہ، ہر سحر امید بندھوا رہی ہے

دلائے آس،، ڈھلٹی شام

کہ پھول چمن میں کھل کر رہیں گے

اُجالے نور کے، قریب اتنے

اندھیرے سب،

ہیں ہونے کو تمام

کاشف شمیم صدیقی

Exit mobile version