*ایک تلخ حقیقی ۔۔۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ*
*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی*
گندم کا ریٹ کم ہوسکتے ہیں لیکن چینی کے نہیں کیونکہ گندم غریب کسان کی براہ راست ملکیت اور شوگر ملیں اسٹیبلشمنٹ کے یاروں کی ملکیت ہیں، یہی حال آجر اور مزدور کا بھی اس ملک میں ھے بنائے، سنوارے اور ترقی و خوشحال بنائے مزدور لیکن یہاں بھی اسٹیبلشمنٹ کے یار دولت کے بن بوتے پر عیش و تعیش کریں اور بنانے والے مزدور پر ظلم و زیادتی اور لاقانونیت جاری رکھیں، نظام عدل ھو یا عدالتیں یہاں سائل اور ایماندار وکیل رگڑیں کھاتا رھے اور جج و جسٹس اسٹیبلشمنٹ کے یاروں کا عمل کرتے مزے لیتا رھے۔ آخر یہ اسٹیبلشمنٹ کا بھوت ھے کیا، کیوں اس وطن عزیز میں اسٹیبلشمنٹ کو ہی بدنام کیا ھوا ھے؟؟ تو تحقیق و مشاہدے سے معلوم ھوا کہ وطن عزیز میں سب سے زیادہ طاقتور، مضبوط، بھرپور قوت کی مالک اسٹیبلشمنٹ ھے اس لئے ہر مافیاء ، برکردار و عیاش طبقہ خود کو محفوظ بنانے کیلئے اور جھوٹا رعب و بھرم ڈالنے کیلئے بھی اسٹیبلشمنٹ کے نام کو استعمال کرتا ھے جبکہ حقیقت تو یہ ھے کہ اسٹیبلشمنٹ ان عوامل اور انکے منفی عمل پر ایک آنکھ دیکھتا بھی نہیں کیونکہ ان منفی عناصر سے اسٹیبلشمنٹ کا کوسوں دور ان سے واسطہ ہی نہیں۔ یاد رھے کہ اسٹیبلشمنٹ ملک کی حفاظت اور بین الاقوامی معاملات کو بہت باریکی سے دیکھ رہی ھوتی ھے اور اپنی ماہرانہ صلاحیت کے مطابق دنیا کی طاقتوں سے نبردآزما بھی ہر وقت ہر لمحہ رہتی ھے۔ دکھ اور افسوس کا مقام یہ ھے کہ ھمارے ہی کچھ بدعقل، ناقص العقل اور بیوقوف سیدھے سادھے لوگ دشمنانان پاکستان اور اسلام کی چالوں کو سمجھ نہیں پاتے اور انکی چالوں میں پھنس کر اپنی ہی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف الزام تراشی، تہمت اور جھوٹ باندھتے ھیں جس سے ملک و قوم کو اندرونی و بیرونی سطح پر شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ھے۔ دنیا کی یہ پہلی اور آخری قوم ھے جو دشمنوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتی ھے اور اپنی ہی اسٹیبلشمنٹ کے بدنام کرنے میں ذرا بھی غور اور تحمل کا مظاہرہ نہیں کرتے، دوسری جانب ھمارے حکمران ھوں یا سیاستدان، پارلیمنٹیرین ھوں یا سول نوکر شاہی طبقہ تاجر ھوں یا فروخت کنندہ سب کے سب اپنے بداعمالوں بدکاریوں اور بدکرداروں کے سبب دنیا بھر میں ذلیل و خوار اور رسوائی کا سبب بنتے ھیں کبھی بھی نہ خود کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ھیں اور نہ ہی اسلامی نظام کو رائج کرنے کیلئے اپنا مثبت کردار اور عمل پیش کرتے ھیں، یہ سویلین حکمران ہوں یا افسران پا پھر من حیث القوم خود میں سچائی ایمانداری دیانتداری محنت قابلیت و اہلیت کو اپناتے نہیں اور صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ پر لعنت ملامت کرکے خود کو فرشتہ سمجھتے ھیں۔ آئیں اپنے وطن کیلئے ایک قوم بن جائیں اور دین محمدی ﷺ کیلئے ایک امت اور دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر اپنے اداروں کی حرمت و تقدس کے پاسبان بن جائیں تاکہ دشمن ناامید و نامراد لوٹے آمین یا رب العالمین۔
