جہلم (ملک وسیم اختر) ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول پنجاب نے موٹر وہیکل آرڈینینس 1965 کے سیکشن 24 میں ترمیم کرواکے کابینہ سے منظوری حاصل کر لی ، اس ترمیم کے تحت جہلم سمیت پنجاب بھرکے موٹر و ہیکل مالکان کو اب اپنی گاڑی رجسٹرڈ کروانے کے لیے اپنے مستقل رہائشی ضلع کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ اس نئے اقدام کے تحت پنجاب کے رہائشی کسی بھی ضلع میں اپنی گاڑیاں رجسٹرڈ کرواسکیں گے، جبکہ پہلے سیکشن 24 کے تحت موٹر مالکان اپنے مستقل رہائشی ضلع میں ہی گاڑی کی رجسٹریشن کروانے کے پابند تھے۔ ڈی جی ایکسائز زرائع کےمطابق موٹر وہیکل آرڈینینس 1965 ایک صوبائی قانون ہے جس کے تحت ہر صوبے کا رہائشی صرف اپنے صوبے میں اور اپنےرہائشی ضلع میں گاڑی رجسٹرڈ کرنے کا مجاز ہے۔ مجوزہ ترمیم کے تحت پنجاب کے رہائشی پنجاب کے کسی بھی ضلع میں گاڑی رجسٹرڈ کروانے سکیں گے۔ ترمیم کا مقصد آسانی اور ای چالان میں سہولت اور جدت کا فروغ ہے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ محکمہ ایکسائز کی جانب سے مجوزہ ترمیم میں گاڑیوں کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی۔ ایکسائززرائع نے مزید بتایا کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب 2020ء سے پورے پنجاب میں ایک ہی رجسٹریشن سیریز کے تحت رجسٹریشن نمبر الاٹ کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، پنجاب میں رجسٹر ڈ گاڑیوں کے مالکان کو ٹوکن ٹیکس کی آن لائن ادائیگی ، بائیو میٹرک کے ذریعے دی گئی آن لائن ٹرانسفر اور ای رجسٹریشن کارڈ جیسی اضافی سہولتیں بھی مہیا کی جارہی ہیں۔ پنجاب میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی فیلڈ آپریشنز اور سڑکوں پر دیگر ناکوں کے دوران گاڑیوں اور مالکان کے کو الف کی آن لائن تصدیق ممکن بنائی جارہی ہے، جس سے ٹریفک قوانین کے نفاذ میں مزید بہتری آئے گی۔ موٹر وہیکل آرڈیننس میں مجوزہ ترمیم کی حتمی منظوری پنجاب اسمبلی سے لی جائے گی۔
ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول پنجاب نے موٹر وہیکل آرڈینینس 1965 کے سیکشن 24 میں ترمیم کرواکے کابینہ سے منظوری حاصل کر لی
