اسلام آباد : نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے ملک بھر میں کورونا وائرس کی تشویشناک صورتحال کے پیش نظر تمام امتحانات کو 15 جون تک موخر کر دیا ہے۔
اس بات کا اعلان وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے این سی او سی اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی وجہ سے رواں سال 15 جون تک کوئی امتحان نہیں ہوگا۔
شفقت محمود کا کہنا تھا کہ امتحانات جولائی اور اگست تک جا سکتے ہیں جبکہ او لیول کے امتحانات اکتوبر اور نومبر میں ہونگے۔ 15 جون تک سارے امتحانات کینسل ہونگے۔ تاہم حالاتکا جائزہ لینے کے بعد مئی کے تیسرے ہفتے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
اس سے قبل وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے میڈیا بریفنگ میں عوام سے اپیل کی کہ این سی او سی کے فیصلوں پر اعتماد رکھیں۔ کورونا کیسز کی زیادہ شرح والے اضلاع میں لاک ڈاؤن لگایا جا سکتا ہے۔ ملک بھر میں ویکسین لگانے کا عمل جاری ہے۔ حکومت نے 30 مارچ سے ویکسین کی 30 لاکھ خوراکوں کی خریداری کی ہے۔ عوام سے درخواست ہے کہ اس مہلک وبا پر قابو پانے کے لئے عید سادگی سے منائیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں 1200 ویکسینیشن سینٹر کام کر رہے ہیں، اگر بیماری کا پھیلاؤ بڑھتا رہا اور ایس او پیز پر خاطر خواہ حد تک عمل نہ ہوا تو باقی شہروں میں بھی لاک ڈاؤن لگ سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں این سی او سی میں مختلف شہروں اور علاقوں سے اعدادوشمار مل رہے ہیں۔ ان علاقوں کے ہیلتھ سسٹم پر دباؤ کا بھی معلوم ہوتا ہے۔ عوام این سی او سی کے فیصلوں پر بھروسہ رکھیں، حکومت ہیلتھ سسٹم کو بہتر بنا رہی ہے۔
ڈاکٹڑ فیصل سلطان نے کہا کہ آکسیجن کے معاملے پر ہماری کمیٹی نظر رکھے ہوئے ہے۔ ملک بھر میں آکسیجن کی پیداوار کے یونٹس اور امور کو دیکھا جارہا ہے۔ آکسیجن کے بند پلانٹس کو چلانے کے لئے بھی انجینئرکام کررہے ہیں۔ مختلف ممالک سے درآمد کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف مراکز میں آکسیجن کی ترسیل کا عمل بھی بہتر اہم ہوتا ہے اس حوالے سے ٹرانسپورٹ کے شعبہ پر بھی نظر رکھی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ویکسین کا عمل شفاف انداز میں چل رہا ہے۔ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ ہم صرف عطیہ میں ملی ہوئی ویکسین لگا رہے ہیں۔ تین مختلف ویکسین بنانے والوں سے ویکسین کی خریداری کررہے ہیں۔ 30 مارچ سے 30 لاکھ خوراکیں خریدی جاچکی ہیں۔
معاون خصوصی نے کہا کہ اس کے علاوہ ہم ویکسین کی 3 کروڑ خوراکوں کی خریداری کا معاہدہ کررہے ہیں۔ 17 لاکھ خوراکیں چین کی طرف سے تحفہ میں ملی ہیں۔ مختلف ممالک میں بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔اس کی وجہ سے ویکسین کی پیداوار پر بھی دبائو بڑھ رہا ہے۔ کینیڈا اور یورپی یونین میں بھی ویکسین کی سپلائی کم ہونے کی وجہ سے ویکسین لگانے کا عمل سست ہوگیا ہے۔اس طرح کی صورتحال میں پیسے ہونے کے باوجود بھی چیلنج بنا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں 1200 ویکسینیشن سینٹر کام کر رہے ہیں ان میں 22 بڑے ویکسینیشن سینٹر ہیں۔ اب تک 20 لاکھ لوگوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ گزشتہ روز 88 ہزار افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ 50 سال سے زائد عمر کے افراد بھی اب 1166 پر رجسٹریشن کراکے کسی بھی ویکسینیشن سینٹر پر جاکے ویکسین لگا سکتے ہیں۔ آج سے 40 سے 50 سال کی عمر کے گروپ کے افراد کی رجسٹریشن کا عمل شروع کیا جارہا ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ہجوم والی جگہ پر نہ جائیں، ماسک کا استعمال کریں، انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ رمضان اور عید سادگی سے منانا ہوگی۔
