BBC Urdu TV

ایران میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج: 250 مقامات تک پھیل گیا، 35 افراد ہلاک، 1200 سے زائد گرفتاریاں

ایران میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج: 250 مقامات تک پھیل گیا، 35 افراد ہلاک، 1200 سے زائد گرفتاریاں۔

حکومت عوام کے مسائل کو سننے اور حل کرنے کے ساتھ امن و امان قائم رکھنے کی کوشش بھی کرے گی۔اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ محمد باقر قلیباف

تہران(نمائندہ مجاہد افغان) گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے اب 31 میں سے 27 صوبوں تک پھیل چکے ہیں اور ملک کے 250 سے زائد شہروں و قصبوں میں شہری سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ہیومن رائٹس ایکٹیویسٹ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد میں کم از کم 35 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ تقریباً 250 پولیس اہلکار اور 45 رضاکار بسیج فورس کے ارکان زخمی ہوئے ہیں، اب تک 1,200 سے زائد افراد کو احتجاج کے دوران حراست میں لیا جا چکا ہے۔مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس سے مجموعی صورتحال کشیدہ اور غیر مستحکم ہو گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق احتجاج میں جامعات کے طلبہ بھی بڑی تعداد میں شریک ہیں، اور مختلف شہروں میں طلبہ کی جانب سے الگ الگ مظاہرے اور احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ان کی زندگی گزارنا مشکل بنا رہی ہیں اور حکومت فوری اقدامات کرے۔ایرانی حکومت نے عوامی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک مالی ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت آئندہ چار ماہ کے دوران شہریوں کو ماہانہ سات ڈالر کا الاؤنس فراہم کیا جائے گا تاکہ مہنگائی کے اثرات کو جزوی طور پر کم کیا جا سکے، یہ اقدام فوری ریلیف کے طور پر ہے، جبکہ طویل مدتی معاشی اصلاحات کے لیے بھی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قلیباف نے بھی احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جانا چاہیے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ملکی ایجنٹس کی کسی بھی ممکنہ سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کے مسائل کو سننے اور حل کرنے کے ساتھ امن و امان قائم رکھنے کی کوشش بھی کرے گی۔ایران میں ہلاکتوں اور تشدد میں اضافے کے ساتھ امریکی مداخلت کے امکانات بھی زیر بحث آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر تہران پرامن مظاہرین پر تشدد کرے تو امریکا ان کی مدد کے لیے کارروائی کرے گا۔ماہرین کے مطابق ایران میں جاری احتجاجی مظاہرے نہ صرف ملک کی داخلی سیاسی صورتحال کے لیے چیلنج ہیں بلکہ عالمی سطح پر خطے کی اقتصادی اور سیاسی حساسیت کو بھی بڑھا رہے ہیں۔ ملکی اور بین الاقوامی عوامل کی وجہ سے یہ مظاہرے آئندہ دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جس کے لیے حکومت اور عالمی برادری کی متوازن حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

Exit mobile version