BBC Urdu TV

ایرانی جوہری سائنسدان کو ’اسرائیلی انٹیلیجنس موساد‘ نے قتل کروایا

ایران کے انتہائی اہم جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کو گزشتہ نومبر میں تہران میں ’اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسی موساد‘ نے قتل کروایا تھا۔ یہ بات برطانیہ سے شائع ہونے والے ایک جریدے نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھی ہے۔
برطانیہ سے شائع ہونے والے ہفت روزہ جریدے ‘جیوئش کرونیکل‘ (Jewish Chronicle) نے اپنی بدھ 10 فروری کی اشاعت میں شامل کردہ ایک رپورٹ میں بتایا کہ گزشتہ برس نومبر میں ایرانی دارالحکومت میں ملکی جوہری پروگرام کی ایک انتہائی اہم شخصیت اور معروف سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل کا واقعہ اسرائیلی فارن انٹیلیجنس ایجنسی موساد کی کارروائی تھا۔

سلامتی کونسل ایرانی سائنس دان کے قتل معاملے پر شاید توجہ نہ دے

Iran Fabrik stellt Flaggen zum Verbrennen her (Reuters/WANA/N. Tabatabaee)
ایرانی فیکڑی: جہاں پرچم صرف جلانے کے لیے بنائے جاتے ہیں
ایران میں غیر ملکی پرچم تیار کرنے والی سب سے بڑی فیکڑی کا کاروبار تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اس فیکڑی میں امریکی، برطانوی اور اسرائیلی پرچم صرف اس لیے تیار کیے جاتے ہیں تاکہ انہیں مظاہروں کے دوران جلایا جا سکے۔

Iran Fabrik stellt Flaggen zum Verbrennen her (Reuters/WANA/N. Tabatabaee)
ایرانی فیکڑی: جہاں پرچم صرف جلانے کے لیے بنائے جاتے ہیں
یہ فیکڑی ایرانی دارالحکومت تہران کے جنوب مغربی شہر خمین میں واقع ہے، جہاں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایسے جھنڈے پرنٹ کرتے ہیں اور پھر سوکھنے کے لیے انہیں لٹکا دیا جاتا ہے۔

Iran Fabrik stellt Flaggen zum Verbrennen her (Reuters/WANA/N. Tabatabaee)
ایرانی فیکڑی: جہاں پرچم صرف جلانے کے لیے بنائے جاتے ہیں
احتجاجی مظاہروں کے دنوں میں اس فیکڑی میں ماہانہ بنیادوں پر تقریبا دو ہزار امریکی اور اسرائیلی پرچم تیار کیے جاتے ہیں۔ سالانہ بنیادوں پر پندرہ لاکھ مربع فٹ رقبے کے برابر کپڑے کے جھنڈے تیار کیے جاتے ہیں۔

Iran Fabrik stellt Flaggen zum Verbrennen her (Reuters/WANA/N. Tabatabaee)
ایرانی فیکڑی: جہاں پرچم صرف جلانے کے لیے بنائے جاتے ہیں
ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد سے امریکا اور ایران کے مابین پائی جانے والی کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور اس وجہ سے آج کل ایران میں امریکا مخالف مظاہروں میں بھی شدت پیدا ہو گئی ہے۔ حکومت کے حمایت یافتہ مظاہروں میں امریکا، اسرائیل اور برطانیہ کے جھنڈے بھی تواتر سے جلائے جا رہے ہیں۔

Iran Fabrik stellt Flaggen zum Verbrennen her (Reuters/WANA/N. Tabatabaee)
ایرانی فیکڑی: جہاں پرچم صرف جلانے کے لیے بنائے جاتے ہیں
دیبا پرچم نامی فیکڑی کے مالک قاسم کنجانی کا نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہمارا امریکی اور برطانوی شہریوں سے کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ ہمارا مسئلہ ان کی حکومتوں سے ہے۔ ہمارا مسئلہ ان کے صدور سے ہے، ان کی غلط پالیسیوں سے ہے۔‘‘

Iran Fabrik stellt Flaggen zum Verbrennen her (Reuters/WANA/N. Tabatabaee)
ایرانی فیکڑی: جہاں پرچم صرف جلانے کے لیے بنائے جاتے ہیں
ایران مخالف ممالک کے جب پرچم نذر آتش کیے جاتے ہیں تو دوسرے ممالک کے عوام کیسا محسوس کرتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں اس فیکڑی کے مالک کا کہنا تھا، ’’اسرائیل اور امریکا کے شہری جانتے ہیں کہ ہمیں ان سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر لوگ مختلف احتجاجی مظاہروں میں ان ممالک کے پرچم جلاتے ہیں تو وہ صرف اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہوتے ہیں۔‘‘

Iran Fabrik stellt Flaggen zum Verbrennen her (Reuters/WANA/N. Tabatabaee)
ایرانی فیکڑی: جہاں پرچم صرف جلانے کے لیے بنائے جاتے ہیں
رضائی اس فیکڑی میں کوالٹی کنٹرول مینیجر ہیں۔ انہوں نے اپنا مکمل نام بتانے سے گریز کیا لیکن ان کا کہنا تھا، ’’ امریکا کی ظالمانہ کارروائیوں کے مقابلے میں، جیسے کہ جنرل سلیمانی کا قتل، یہ جھنڈے جلانا وہ کم سے کم ردعمل ہے، جو دیا جا سکتا ہے۔‘‘

Iran Fabrik stellt Flaggen zum Verbrennen her (Reuters/WANA/N. Tabatabaee)
ایرانی فیکڑی: جہاں پرچم صرف جلانے کے لیے بنائے جاتے ہیں
نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق انقلاب ایران میں امریکا مخالف جذبات کو ہمیشہ سے ہی مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ ایرانی مذہبی قیادت انقلاب ایران کے بعد سے امریکا کا موازنہ سب سے بڑے شیطان سے کرتی آئی ہے۔

Iran Fabrik stellt Flaggen zum Verbrennen her (Reuters/WANA/N. Tabatabaee)
ایرانی فیکڑی: جہاں پرچم صرف جلانے کے لیے بنائے جاتے ہیں
دوسری جانب اب ایران میں صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ گزشتہ نومبر میں ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران یہ نعرے بھی لگائے گئے کہ ’’ہمارا دشمن امریکا نہیں ہے، بلکہ ہمارا دشمن یہاں ہے۔‘‘

Iran Fabrik stellt Flaggen zum Verbrennen her (Reuters/WANA/N. Tabatabaee)
ایرانی فیکڑی: جہاں پرچم صرف جلانے کے لیے بنائے جاتے ہیں
حال ہیں میں تہران میں احتجاج کے طور پر امریکی پرچم زمین پر رکھا گیا تھا لیکن ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان مظاہرین اس پر پاؤں رکھنے سے گریز کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی نوجوان پرچم جلانے کی سیاست سے بیزار ہوتے جا رہے ہیں۔

1 | 10
ساتھ ہی اس جریدے نے یہ بھی لکھا کہ فخری زادہ کو ایک ایسی مخصوص گن سے فائرنگ کر کے نشانہ بنایا گیا، جس کو مختلف حصوں کی صورت میں موساد نے ہی ایران میں اسمگل کروایا تھا۔

فخری زادہ کی آٹھ ماہ تک خفیہ نگرانی
اس برطانوی جریدے نے نام لیے بغیر انٹیلیجنس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ محسن فخری زادہ کی ٹارگٹ کلنگ منصوبے پر کامیابی سے عمل درآمد ایک ایسی ٹیم کے ذمے تھا، جس میں 20 سے زیادہ ایجنٹ شامل تھے جن میں اسرائیلی اہلکار بھی تھے اور ایرانی شہری بھی۔

جوہری پروگرام: مقتول ایرانی سائنسدان کا خفیہ کردار کیا تھا؟

مزید یہ کہ فخری زادہ کو نشانہ بنانے سے پہلے ان کی آٹھ ماہ تک باقاعدہ خفیہ نگرانی بھی کی گئی تھی۔

اس بارے میں نیوز ایجنسی روئٹرز نے لکھا ہے کہ اس کے نامہ نگار فوری طور پر خود لندن سے شائع ہونے والے جریدے ‘جیوئش کرونیکل‘ کی اس رپورٹ کے مندرجات کی تصدیق نہیں کر سکے۔

’ایرانی قوم دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گی‘

جہاں تک فخری زادہ کے قتل کے واقعے کا تعلق ہے، تو یہ ایک حقیقت ہے کہ اس ایرانی جوہری سائنسدان کو تہران میں ان کی گاڑی میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہیں زخمی حالت میں ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا جہاں ان کا انتقال ہو گیا تھا۔

Gold bullion on gold coins (picture-alliance/blickwinkel/McPHOTO/BilderBox)
امریکی پابندیوں کا نشانہ بننے والے ممالک
ایران
امریکا کی ایران عائد پابندیوں کا فی الحال مقصد یہ ہے کہ تہران حکومت سونا اور دوسری قیمتی دھاتیں انٹرنیشنل مارکیٹ سے خرید نہ سکے۔ اسی طرح ایران کو محدود کر دیا گیا ہے کہ وہ عالمی منڈی سے امریکی ڈالر کی خرید سے بھی دور رہے۔ امریکی حکومت ایرانی تیل کی فروخت پر پابندی رواں برس نومبر کے اوائل میں عائد کرے گی۔

Exit mobile version