تحریر: ڈاکٹر اعجاز احمد جہلمی
اٹھو مومنو تم پہ وقت آگیا ہے
سر پہ ہے دشمن وقت آگیا ہے
شیعہ ہو چاہے سنی ہو اب تم
نہ پڑنا فرقہ پرستی میں اب تم
نہ دیکھو علاقہ نہ دیکھو ملک تم
سوچو محمد (صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم) کے امتی ہو اب تم
امتی امتی جس نے رب سے پکارا
وہ نبی دو جہانوں سے ہے رب کو پیارا
اس نبی کی امت نے ہے اب تم کو پکارا
اٹھو مومنو اب وقت ہے تمہارا اب وقت ہے تمہارا
پکارا ہے جس نے وہ ہے بیٹی علی (رضی اللّٰہ تعالی عنہ) کی
سر پہ دوپٹہ نہ پیروں میں جوتی ہے اس کی
وہ روتی ہیں مائیں سر کٹا کے اولاد علی (رضی اللّٰہ تعالی عنہ) کا
وہ وقت آگیا ہے شاید پھر کربلا کا
اٹھو اب اولاد عمر (رضی اللّٰہ تعالی عنہ) بھی تم ہو
اٹھو اب اولاد ابوبکر (رضی اللّٰہ تعالی عنہ) بھی تم ہو
اب مشکل ہے وقت اولاد حسن (رضی اللّٰہ تعالی عنہ) پر
کٹا دو اب تم سر حسین (رضی اللّٰہ تعالی عنہ) کے سر پر.
