BBC Urdu TV

انگوٹھا چھاپ سیکریٹری انٹر بورڈ کاشف صدیقی کے بعد پیشِ خدمت ہے "بمشکل” میٹرک پاس عارضی چیئرمین سندھ

*(ایکسکلوزیو رپورٹ: اشتیاق سرکی، اے پی این اے)*

*انگوٹھا چھاپ سیکریٹری انٹر بورڈ کاشف صدیقی کے بعد پیشِ خدمت ہے "بمشکل” میٹرک پاس عارضی چیئرمین سندھ ٹیکنیکل بورڈ قاضی عارف المعروف "قاضی فارغ”۔*

*سندھ حکومت نااہل اور انپڑھ لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر سندھ کے تعلیمی اداروں کی بربادی کی ذمہ داریاں سونپنے لگی۔*

*سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے اہم ترین عہدے کا عارضی چارج ایک "تقریباً انپڑھ” شخص قاضی عارف کے حوالے کردیا گیا۔ جس نے بڑی مشکلوں سے اپنا میٹرک "سی” گریڈ میں جنرل گروپ سے پار کیا۔*

موصوف کے پاس چیئرمین سندھ ٹیکنیکل بورڈ کا عارضی چارج ہے مگر بورڈ میں چیئرمین تعیناتی کے بعد موصوف خود کو مغلِ اعظم سمجھ بیٹھے ہیں اور بورڈ کے اہم معاملات میں بیجا مداخلت اور ملازمین کو دھونس اور دھمکی کے ذریعے سے حراساں کرنے کی تمام کوششیں بروئے کار لا رہے ہیں۔

دھمکی دھونس دینے کے بعد ملازمین سے سرِ عام رشوت کا تقاضا کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اتنے لاکھ دے دو تو تمہیں من پسند پوسٹنگ دلوا دوں یا پھر اور انتظامی فائدہ دلوا دوں۔ ورنہ میرے عتاب کا شکار ہونے کے لئے تیار رہو۔

بورڈ میں قاضی عارف کے بجائے "قاضی فارغ” کے نام سے شہرت رکھنے والے موصوف کی اگلی نظر چیئرمین سندھ ٹیکنیکل بورڈ کی مستقل اسامی پر ہے جس کے لیے انہیں پیسے درکار ہیں اور جس کے لیے یہ کھلے عام کہتے ہیں کہ مجھے عارضی چارج بھی بھاری رشوت ادا کرنے کے بعد ملا ہے۔ لہذا پیسے جمع کرکے مستقل اسامی ہر صورت حاصل کرنی ہے۔

بورڈ کو مغلیہ انداز میں چلانے کی سب سے بڑی یہ مثال ہے کہ دہائیوں سے ڈائریکٹر سی سی آر ڈی کے ناکارہ اور نمائشی عہدے پر بیٹھے بیٹھے دیگر بورڈ ملازمین اور عہدے داروں کے خلاف بُغض اور حسد کو پروان چڑھانے کے بعد اس فارغ دماغ انسان نے چیئرمین بورڈ کا عارضی چارج ملتے ہی اپنے پچھلے افسرانِ بالا اور دیگر ساتھیوں کے خلاف اینٹی کرپشن اور دیگر محکموں میں جھوٹے الزامات لگوا کر انکوائریوں میں پھنسانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اپنے من پسند لوگوں کو بورڈ کے اندر من چاہی پوسٹنگ اور دیگر ناپسند اور ایماندار ملازمین کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

حال ہی میں بورڈ میں سالوں سے کنٹریکٹ کی بنیاد پر کام کرنے والے نچلے درجے کے خاکروبوں کے خلاف بھی اس گوار شخص نے کمر کس لی ہے اور انکو انکی روزی روٹی سے محروم کرنے کے پروگرام پر عمل درآمد کی ساری دفتری کاغذی کاروائی مکمل کرلی ہے۔ جس کے بعد سالہاسال سے کام کرنے والے ان غریب ملازمین کو مستقل کرنے کے بجائے انکے کانٹریکٹ ختم کر کے انکو روزانہ اجرت پر مشروط طور پر تعینات کیا جائے گا۔

ان چھوٹے ملازمین کو اس دفتری کاروائی کے بعد اپنے خاندانوں کی کفالت کی فکر پڑ گئی ہے اور انکو فاقہ کشی کا خدشہ ہونے لگا ہے۔ ان ملازمین کی ماہِ جنوری کی تنخواہیں تک اس بمشکل میٹرک پاس "خیراتی چیئرمین” نے رکوا دی ہیں۔ جس کے باعث یہ ملازمین سخت ذہنی اذیت کا شکار ہو گئے ہیں۔

وہیں جب بورڈ میں کام کرنے والی کلرکوں کی تنظیم کے عہدے داروں سے اس بارے میں معلومات حاصل کی گئیں تو انکا کہنا تھا کہ ہم صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس خیراتی چیئرمین کا مکمل گھیراؤ کرکے دفتروں کی تالہ بندی کی جائے گی۔ جب تک اس کو عہدے سے برطرف کرکے اسکی تعلیمی اسناد کی چھان بین اور کرپشن کے معاملات کی صاف شفاف انکوائری نہیں کروائی جاتی تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور نہ ہی کسی بورڈ ملازم سے زیادتی ہونے دیں گے۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فقط تیس لاکھ روپوں کے عوض سندھ کے اس اہم تیکنیکی بورڈ کی باگ دوڑ اس تقریباً انپڑھ شخص کے ہاتھوں میں دے دی گئی ہے۔ ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس شخص سے فوری طور پر چیئرمین بورڈ کا عارضی چارج واپس لے کر فلفور اسکو اپنی اوقات میں لایا جائے اور تحقیقات کی جائیں۔

سیکرٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نور احمد سموں سے جب اس بارے میں انکا موقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا تو وہ اس معاملے سے بلکل لاعلم تھے اور انہوں نے مزید کہا کہ میرے ہوتے ہوئے ادارے کے کسی غریب ملازم سے کوئی زیادتی ہوئی تو میں اُس افسر کے خلاف کاروائی کرونگا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ "بمشکل میٹرک پاس”عارضی و خیراتی چیئرمین اور کیا گُل کھلاتا ہے اور کتنے دیگر بورڈ ملازمین اس کے عتاب کا شکار بنتے ہیں۔

اگلے شمارے میں مزید ہوشربا انکشافات سامنے لائے جائیں گے۔

Exit mobile version