BBC Urdu TV

انسان ایک جاندار (Organism) ہے جوکہ کئی اعضائی نظاموں (Organ Systems) سے مل

انسان ایک جاندار (Organism) ہے جوکہ کئی اعضائی نظاموں (Organ Systems) سے مل کر بنا ہے. ہر اعضائی نظام کئی اعضاء (Organs) پر مشتمل ہے اور ہر عضو ((Organ مختلف پٹھوں (Muscles) اور ہڈیوں (Bones) سے بنا ہے. ہر ہڈی (Bone) اور ہر پٹھہ (Muscle) بہت سے ریشوں (Tissues) سے بنا ہوتا ہے (جوکہ مختلف اعضاء کی مناسبت سے ایک جیسے بھی ہو سکتے ہیں اور مختلف بھی) اور ریشے مشتمل ہوتے ہیں خلیوں (Cells) پہ (جنہیں جانداروں کی اکائی ((Base بھی کہا جاتا ہے). اب خلیوں پہ آکر یہ تقسیم رک نہیں جاتی:-). حیاتیات (Biology) کے ماہرین کے مطابق خلیوں کی مختلف اقسام (Types) ہوتی ہیں جوکہ اپنی ساخت (Kind) اور کام (Function) کے اعتبار سے مختلف اجزاء سے بنے ہوتے ہیں جنہیں (Organelles) کہا جاتا ہے. خلیہ (Cell) کے مرکز (Nucleus) میں ایک خاص قسم کا (Organelle) پایا جاتا ہے جسے کروموسوم (Chromosome) کہا جاتا ہے، انکی تعداد (Number) ہر جاندار پودے، پرندے اور جانور میں مختلف ہوتی ہے انسان میں 46 کروموسوم ہوتے ہیں، (کسی ایک کروموسوم کی کمی یا زیادتی انسان میں کوئی ناں کوئی خامی پیدا کر دیتی ہے)

واپس آتے ہیں خلیہ (Cell) کے اجزاء (Organelles) پر. ہر جزو (Organelle) مختلف اقسام کے کیمیائی مرکبات (Chemical Compounds) سے بنا ہوتا ہے اور ہر مرکب مختلف اقسام کے سالموں (Molecules) سے بنتا ہے. ہر سالمہ (Molecule) مختلف ذروں (Atoms) سے بنتا ہے. اور بہت عرصہ سے ماہرین کی رائے تھی کہ ذرہ (Atom) اس کائنات (Universe) میں موجود مادے (Matter) کی سب سے چھوٹی اکائی ہے (Base) مگر بعد کی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ ذرہ مختلف بنیادی اجزا (Fundamental Particles) سے بنتا ہے جن میں بنیادی اجزاء برقیہ (Electron)، پروٹون (Proton) اور غیر چارج شدہ ذرہ (Neutron) ہیں. بہت عرصہ تک ماہرین اس رائے (Concept) پہ قائم رہے کہ ان اجزاء کو مزید تقسیم (Divide) نہیں کیا جاسکتا مگر بعد کی تحقیقات نے ثابت (Prove) کیا کہ یہ مزید (Sub atomic particles) میں تقسیم ہو سکتے ہیں (اور قابل فخر بات یہ ہے کہ قران کریم نے 1400 سال پہلے ہی ذرہ سے بھی چھوٹی اشیاء کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا). آخر میں آکر کچھ نوری ذرات (Light Particles) رہ جاتے ہیں اور کچھ طاقتی ذرات (Force Particles) .

انسان کو تھوڑتے تھوڑتے آخر میں جو لائٹ پارٹیکلز اور فورس پارٹیکلز رہ جاتے ہیں یہ نور ہیں ، اللّٰہ کا مائیکرو زرہ نور جو آپ کے اندر موجود ہے ہر انسان کے اندر موجود ہے

Exit mobile version