خصوصی تحریر (کاشف شمیم صدیقی)
کراچی شہر کی متعدد سڑکیں اُبلتے ہوئے گٹروں کےغلیظ پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں جس سے بالخصوص موٹر سائیکل سوار، سائیکل سوار اور راہگیر شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ٹھہرے ہوئے گندے پانی نے چلتے پھرتے عوام کی زندگی کو جہنم بنا رکھا ہے
لوگوں کو اپنے اپنے مذہبی مقامات تک رسائی اور مذہبی فرائض کی ادائیگی میں بھی سخت مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ غلیظ پانی کی اُڑتی چھینٹیں لباس کی پاکیزگی کو متاثر کر رہی ہیں۔
بدبو دار، غلاظت سے بھرپور پانی پہلے سے تباہ شدہ ماحول کو مزید بدتر بنا رہا ہے۔ یہ صورتحال ڈینگی اور ملیریا جیسی مچھروں سے پیدا ہونے والی بیماریوں سمیت دیگر وبائی امراض کے خطرات بڑھا رہی ہے۔ گندے پانی کے مسلسل ٹھہراؤ سے جلدی امراض اور دیگر انفیکشنز میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ پانی میں ڈوبی سڑکیں آمد و رفت کو مشکل بنا رہی ہیں اور ٹریفک جام کا باعث بن رہی ہیں۔ ٹریفک جام میں پھنسی ایمبولینسیں اور ان میں موجود وہ مریض جنہیں بروقت اسپتال پہنچا کر ان کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں، اگر مر جائیں تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ سڑکوں سے گندا پانی صاف کیا جائے، نکاسیٔ آب کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور فومیگیشن مہم چلائی جائے تاکہ عوام کو بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ شہریوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سلسلے میں این جی اوز (NGOs) کی مدد لی جا سکتی ہے۔
