انجمنِ آرائیاں پاکستان (رجسٹرڈ) سنٹرل ایگزیکٹو کونسل کا اجلاس مرکزی صدر میاں محمد سعید ڈیرہ والے کی زیر صدارت موہنی روڈ لاہور میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں بزرگ سماجی رہنما صدر انجمنِ آرائیاں پاکستان ضلع جہلم چوہدری یعقوب آرائیں ایڈوکیٹ نے خصوصی شرکت کی
لاہور(اسٹاف رپورٹ)
انجمنِ آرائیاں پاکستان (رجسٹرڈ) موہنی روڈ لاہور کی سنٹرل ایگزیکٹو کونسل کو اجلاس مرکزی صدر میاں محمد سعید ڈیرہ والے کی زیر صدارت لاہور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان بھر سے ضلعی، صوبائی و مرکزی عہدیداران کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسولِ مقبول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے ہونے کے بعد انجمن کے مرکزی سیکرٹری جنرل ممتاز قانون دان و سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل پاکستان میاں خالد حبیب الہی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے انجمن کی سال 2016 سے 2024 تک کی کارکردگی رپورٹ پیش کی۔میاں خالد حبیب الہی نے بتایا کہ انجمنِ آرائیاں پاکستان ہر سال رمضان المبارک میں ہزاروں غریب اور مجبور لوگوں کے لیے رمضان راشن اور عید قرباں پر تمام اضلاع کو گائے کی قربانی بجھواتی ہے۔ اسی طرح 2016اور 2021 کے سیلاب میں انجمن نے سندھ،کے پی کے اور پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کے لیے اپنے طور پر اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور میاں بلیغ الرحمن کے ذریعہ سے اور الخدمت فاؤنڈیشن کے ذریعہ سے بھی کروڑوں کا سامان بجھوایا جس میں اشیائے خورد و نوش کے علاؤہ زنانہ،مردانہ اور بچوں کے کپڑے اور پینے کا صاف پانی بھی شامل تھا۔ میاں خالد حبیب الہی نے بتایا کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے ڈیم فنڈ میں انجمنِ آرائیاں پاکستان نے ایک کروڑ تیس لاکھ روپے دیئے۔اسی طرح کرونا کے دوران انجمنِ آرائیاں پاکستان نے اڑھائی کروڑ روپے وزیر اعظم کرونا فنڈ میں دیئے، کرونا کے دوران روازنہ پانچ ہزار لوگوں کے لیے کھانا پکا کر لاہور کے مختلف علاقوں میں تقسیم کیا جاتا رہا۔ آٹو رکشہ والوں کو راشن دیا گیا۔ گورنر پنجاب کے ذریعہ سے بہت سارے لوگوں کو کرونا راشن پہنچایا گیا اور یکم رمضان سے 27 رمضان المبارک تک روزانہ پانچ ہزار لوگوں کے لیے افطار کھانا پکا کر تقسیم ہوتا رہا جو اب تک بھی جاری ہے۔ کرونا میں انجمنِ آرائیاں پاکستان کی خدمات کے اعتراف میں گورنر ہاؤس لاہور میں بننے والی کرونا وال پر نہ صرف انجمنِ آرائیاں پاکستان کا نام سر فہرست لکھا گیا بلکہ اس سے آگے بھی ایک لمبی لسٹ پر ایسے نام ہیں جنہوں نے انفرادی طور پر کرونا میں بہت کام کیا اور وہ سب بھی انجمنِ آرائیاں پاکستان کے مرکزی عہدیداران ہیں۔ میاں خالد حبیب الہی نے بتایا کہ صدر جناب میاں محمد سعید ڈیرہ والے کی جانب سے کرونا کے بعد سے روزانہ ایک ہزار غریب افراد کے لیے فری دسترخوان چل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انجمنِ آرائیاں پاکستان بچوں کی تعلیم اور روزگار کے حوالے سے بہت کام کرنا چاہتی ہے۔ جس کے لیے بچے بچیوں کو دور حاضر کے مطابق آئی ٹی سنٹر بنا کر ڈیجیٹل سکلز کے کورسز فری کروائے جا رہے ہیں۔اور اب ایسے ذہین بچے بچیاں جو اخراجات برداشت نہیں کر سکتے ان کے لیے فری سی ایس ایس کوچنگ اکیڈمی کا آغاز بھی عنقریب کیا جا رہا ہے۔ دیہاتی علاقوں میں کم پڑھی لکھی بچیوں کے لیے گزشتہ کئی سالوں سے فری انڈسٹریل ہومز چل رہے ہیں جس میں بچیاں سلائی کا کام سیکھ کر اپنے روزگار کے قابل ہو جاتی ہیں۔ موہنی روڈ پر مرکزی صدر انجمنِ میاں محمد سعید ڈیرہ والے نے اپنی ذاتی گرہ سے چودہ دکانات بنا کر انجمن کو عطیہ کیں ہیں اور اسی سال 2025 میں ان دکانات پر اپنی ذاتی گرہ سے رہائشی فلیٹس بنا کر دینے کا اعلان کیا ہے جن پر ایل ڈی اے کی منظوری کے فوری بعد کام شروع ہو جائے گا۔دس مرلہ پر بنی سو سالہ پرانی خستہ حال مسجد کو شہید کر کے پانچ کروڑ کی لاگت سے 22 مرلہ پر شاندار مسجد بھی تعمیر کی گئی۔ اس کے علاؤہ میاں خالد حبیب الہی نے انجمنِ کی اراضی اور دوسرے اثاثہ جات کی تفصیل اور ان کا موجودہ سٹیٹس بھی بتایا۔
مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے عہدیداران میں وائس چیئرمین انجمنِ آرائیاں ضلع قصور چوہدری محمد اکرم ذکی،ضلعی صدر خانیوال میاں عبدالحفیظ، ضلعی صدر وہاڑی ڈاکٹر عرفان چوہدری،ضلعی سیکرٹری جنرل وہاڑی شہزاد اکبر چوہدری، ضلعی فنانس سیکرٹری وہاڑی قیصر ستار چوہدری، ضلعی سیکرٹری جنرل مظفر گڑھ چوہدری عبدالرحمن، ضلعی صدر پاکپتن محمد رمضان،ضلعی صدر چکوال ناصر محمود آرائیں ،جنرل سیکرٹری چکوال محمد فیاض آرائیں، ضلعی صدر اٹک چوہدری نثار احمد آرائیں، تحصیل صدر بہاولنگر چوہدری رضوان بشیر، ضلعی انفارمیشن سیکرٹری ڈاکٹر ظفر بھٹہ،ضلعی سیکرٹری جنرل بہاولنگر پروفیسر نیر زمان۔ ضلعی صدر منڈی بہاوالدین مہر اکبر آرائیں، جنرل سیکرٹری ضلع بنوں کے پی کے مولانا طاہر میر آرائیں ،ضلعی صدر فیصل اباد میاں ریاض الحق، ضلعی صدر جہلم بزرگ راہنماء چوہدری محمد یعقوب ایڈووکیٹ,ضلعی صدر راجن پور انجنئیر محمد عثمان، ضلعی سیکرٹری جنرل بہاولپور محمد اسد، کے علاؤہ ہر ضلع سے متعدد عہدیداران نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا ۔ صوبائی اور مرکزی راہنماؤں میں نائب صدر پنجاب چوہدری فضل الٰہی ، نائب صدر پنجاب ڈاکٹر غلام ربانی چوہدری، صدر انجمن جنوبی پنجاب چوہدری طاہر محمود آرائیں ، سینئر نائب صدر پنجاب میاں محمد جمیل، مرکزی نائب صدر میاں محمد یوسف، مرکزی نائب صدر میاں امجد اقبال،نائب صدر انجنئیر نصر اللہ (بلوچستان). جوانٹ سیکرٹری میاں سلیم آفتاب ایڈووکیٹ، ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات و نشریات میاں عرفان حبیب ایڈووکیٹ ، سیکرٹری انفارمیشن میاں حبیب اللہ ، سیکرٹری ایڈمن ڈاکٹر وقار چوہدری، سابق چیئرمین ایف بی آر میاں انصر ، کے علاؤہ مرکزی سیکرٹری جنرل میاں خالد حبیب الہی ایڈووکیٹ اور مرکزی صدر میاں محمد سعید ڈیرہ والے نے بھی شرکت کی۔ضلعی، صوبائی اور مرکزی عہدیداران کے اظہار خیال کے بعد مرکزی سیکرٹری جنرل میاں خالد حبیب الہی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم نے بانی تنظیم بیرسٹر سر میاں محمد شفیع کے خواب کو لے کر آگے بڑھنا ہے انہوں نے ہمیشہ حصول تعلیم پر بہت زور دیا تھا ہم ان کے مشن پر کار بند ہیں۔ ڈاکٹر غلام ربانی چوہدری کی جانب سے دی جانے والی تعلیم کے حوالہ سے نوجوانوں کو سپورٹ کرنے کی تجویز کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محترم ڈاکٹر غلام ربانی چوہدری کی تجویز بہت قابل عمل ہے۔ ہم اپنے ذہین بچے بچیوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں سپورٹ کے لیے بہت جلد اس تجویز کو عملی جامہ پہنائیں گے۔ مرکزی صدر انجمنِ آرائیاں پاکستان میاں محمد سعید ڈیرہ والے نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم سب نے مل کر انجمن کے پلیٹ فارم سے برادری اور انسانیت کی خدمت کو جاری رکھنا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم پر اور خصوصی طور پر ٹیکنکل ایجوکیشن پر توجہ دینی ہے۔ میاں محمد سعید ڈیرہ والے نے کہا کہ ہمیں اللہ نے اپنی مخلوق کی خدمت کے لیے چنا ہے یہ ہماری خوش قسمتی ہے میں کچھ بھی نہیں ہوں میرا کردار صرف ایک چوکیدار کا ہے اللہ مجھے دے رہا ہے اور میرے ہاتھوں اپنی مخلوق پر خرچ کروا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انشاء اللہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بہترین مثال قائم کر کے جائیں گے۔ انہوں نے کہا میرے نوجوان میری طاقت اور امید ہیں میں اپنے بچوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیشہ پاکستان کے پرچم کو سر بلند رکھنا ہے۔ پروگرام کے اختتام پر فوت شدگان کے لیے دعائے خیر کروائی گئی اور مرکزی صدر میاں محمد سعید ڈیرہ والے کی طرف سے شاندار کھانے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔
