BBC Urdu TV

انتظامیہ دکانداروں کیساتھ لوٹ مار میں شامل کمشنر کراچی آفس اور ڈی سی سینٹر آفس لا علم

کراچی (اسٹاف رپورٹ)بدھ بازار یوپی نارتھ کراچی مافیا کے زیر تسلط

انتظامیہ دکانداروں کیساتھ لوٹ مار میں شامل
کمشنر کراچی آفس اور ڈی سی سینٹر آفس لا علم
سینٹرل کراچی کا سب سے بڑا کاروباری مرکز عوام کا خون چوسنے لگا

صحافی کو حراساں کرنے کی کوشش
تفصیلات کے مطابق کراچی کے سینئر صحافی و کالمکار جاوید صدیقی کو عوامی حلقہ نے بار بار کہا کہ کمشنر کراچی کی جانب سے جاری نرخ نامہ ضلع وسطی کے سب سے بڑے بچت بازار "بدھ بازار” میں نہ تو نرخ نامے آویزاں کئے جاتے ھیں اور نہ ہی ان پر عمل درآمد کیا جاتا ھے۔ بدھ 16 اگست تقریباً ڈھائی بجے سینئر صحافی و کالمکار جاوید صدیقی بدھ بازار گئے تو کسی کے پاس بھی نرخ نامہ موجود نہ تھا ہر ایک من مانی قیمت پر اشیاء فروخت کررھا تھا، جاوید صدیقی نے نرخ نامہ لگانے کو کہا تو دکانداروں نے صاف منع کردیا۔ اتنے میں انتظامیہ میں شامل شانی نام کے شخص آئے اور انھوں نے کہا کہ یہاں یہی طریقہ ھے اور جاوید صدیقی سے شناخت کیلئے کہا جس پر انھوں نے کراچی یونین آف جرنلسٹ اور کراچی پریس کلب کیساتھ ساتھ ادارے اور یوکے پاکستان میڈیا آرگنائزیشن کا کارڈ بھی دکھایا جس پر انتظامی شخص شانی نے جعلی قرار دیا اور بازار کے بیوپاریوں کو کہا کہ انہیں بازار سے نکال دو یہ سنتے ہی عوام جمع ھوگئی اور انتظامیہ کا یہ شخص رفو چکر ھوگیا۔ صدیقی صاحب انتظامیہ کیمپ پہنچے تو کوئی نہ تھا۔ سینئر صحافی و کالمکار جاوید صدیقی کا کہنا ھے کہ ڈی سی سینٹرل اور کمشنر کراچی کو بدھ بچت بازار پر توجہ دینی چاہئے اگر اسی طرح کرپٹ مافیا انتظامیہ کے سپرد رکھا گیا تو ایک جانب یہ حکومتی اداروں پر انکی کارکردگی کو مشکوک کریگی تو دوسری جانب بچت کے نام پر عوام سے بھرپور دھوکہ ھوگا۔ عوام کے ایک بڑے حلقوں کا یہ کہنا تھا کہ الیکشن کیلئے رقم جمع کرنے کیلئے یہ دھندا ڈھونڈ رکھا ھے سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ کیا پی پی پی اور ایم کیو ایم اس قدر گر چکی ھے کہ ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جارھے ھیں بہتر یہی ھے کہ اپنی عزت اور وقار کو قائم رکھنے کیلئے بدھ بچت بازار کی انتظامیہ کا فی الفور احتساب کیا جائے تاکہ عوام کو بھی ان مافیا لٹیرے راشیوں سے جان چھوٹے۔ اب دیکھتے ہیں اگلے بدھ میں اچھی تبدیلی رونما ھوتی ھے یا جوں کا توں سماں رہتا ھے۔

Exit mobile version