امریکی سفارتخانہ اسلام آباد کے وییزہ سیکشن کا حال یہ ہے کہ روزانہ تقریباً چار سو پاکستانی انٹرویو کے لیے پہنچتے ہیں، مگر وہاں عام شہریوں کے ساتھ جس طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا جاتا ہے وہ نہایت افسوسناک ہے۔ بچے ہوں، بزرگ ہوں، خواتین ہوں یا بیمار افراد — سب کو ایک ہی لمبی قطار میں گھنٹوں کھڑا رکھا جاتا ہے، اور اس دوران کسی قسم کی مناسب سہولت فراہم نہیں کی جاتی۔
مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ انٹرویو کے دوران درخواست گزاروں کے جوابات و دستاویزات کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کی وہ حق دار ہیں۔ اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اصل پروفائل کے بجائے سفارتخانے کی داخلی ترجیحات فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔
یہ صورتِ حال پاکستانی عوام کے لیے بے حد تکلیف دہ ہے، اور اس کا بنیادی سبب ہماری اپنی حکومتوں کی کمزور سفارتی حکمتِ عملی اور عوامی مفادات کے تحفظ میں ناکامی ہے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کے وقار اور حقوق کے لیے مضبوط مؤقف اختیار کرے تو بیرونی سفارتخانوں کا رویہ بھی بدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔ذرائع
