BBC Urdu TV

امریکہ نے پاکستان کی ہر قومیت کے لوگوں پر ریسرچ کی اور اسی کے مطابق پاکستان کو ڈیل کیا

*امریکہ نے پاکستان کی ہر قومیت کے لوگوں پر ریسرچ کی اور اسی کے مطابق پاکستان کو ڈیل کیا۔ بین الاقوامی اسکالر ومعروف تاریخ دان پروفیسراسلم سید*

*کسی ملک کی بنیاد ہلادی جائے تو وہ کبھی مستحکم نہیں ہوسکتا اور پاکستان کے ساتھ سانحہ مشرقی پاکستان کی صورت میں یہی ہوا۔ پروفیسراسلم سید*

*ہم تاریخ پڑھنے اور تحقیق کرنے سے قاصر ہیں، بدقسمتی ہم آج تک قائد اعظم کا پاکستان نہیں بناسکے۔ ڈاکٹر خالد عراقی*

کراچی (رپورٹ : جاوید صدیقی) بین الاقوامی اسکالر ومعروف تاریخ دان پروفیسراسلم سید نے کہا کہ جب کسی ملک کی بنیاد ہلادی جائے تو وہ کبھی مستحکم نہیں ہوسکتا اور پاکستان کے ساتھ سانحہ مشرقی پاکستان کی صورت میں یہی ہوا۔ مشرقی پاکستان وہ خطہ ہے جس نے پاکستان اور مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔انڈس واٹر ٹریٹی نے بھارت کو کشمیر پر قبضہ کرنے کی خفیہ اجازت دی،ہم نے بھارت کو ہمارے تین دریاؤں کا حق دے دیا اور وہ سارے کشمیر کی طرف تھے۔ غلام اسحاق خان جو اس وقت واپڈا کے سربراہ تھے، وہ بھی اس میں شامل تھے اور امریکہ اور اسٹیبلیشمنٹ ان سے بہت خوش تھی۔ اگر مسلم لیگ 1946 ء کا الیکشن ہار جاتی تو پاکستان نہ بنتا۔ انگریز اگر ان انتخابات میں دھاندلی کردیتے تو پاکستان نہ بنتا، انگریز حکومت اور کانگریس نے الیکشنز میں دھاندلی کی کوشش نہیں کی اور پاکستان بن گیا۔ہماری ریاست بہت مظبوط ہے، ریاست اور حکومت میں فرق ہے کیونکہ ریاست ایک ملک ہے جبکہ حکومت سیاسی جماعتوں کی ہوتی ہے، حکومت کی مخالفت ریاست کی مخالفت نہیں ہوتی، پاکستان میں پہلا مارشل لا اس لئے لگا کیونکہ ہم مشرقی پاکستان کے لیڈران کی حکومت نہیں چاہتے تھے۔ پروفیشنل ڈیولپمنٹ سینٹر جامعہ کراچی کے زیراہتمام آڈیوویژول سینٹر جامعہ کراچی میں منعقدہ لیکچر بعنوان: ”خواب اور حقیقت:آج کا پاکستان“ سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسراسلم سید نے مزید کہا کہ ہمیں یہ بیانیہ دیا گیا کہ پاکستان نے ایوب خان کے دور میں بہت ترقی کی اور ایوب خان چاہتے تھے کہ مگر اس کے غلط فیصلوں کو تاحال سامنے لانے سے گریز کیا جاتا ہے اور ایوب خان کو دنیا میں پاکستان کے معمار کے طور پر پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 1970 ء کے الیکشنز میں پاکستان نے ایک مینڈیٹ دیا جس کو نہیں مانا گیا اور ملک ٹوٹ گیا۔ وہ انتخابات ہمارا ریڈ فلیگ تھے، جو پاکستان کے پہلے عام انتخابات تھے جس میں عوامی شرکت بھرپور تھی مگر اس کو ہم نے نہیں مانا۔ 1971 ء میں ہم نے پاکستان کھویا اور پاکستان کی بنیاد کھودی۔ پاکستانی عوام انتہائی باہمت اور حوصلہ مند ہیں مگر ان کو ہمیشہ دھوکہ دیا گیا۔ اسلم سید نے کہا کہ اب یہ سوال ہورہا ہے کہ پاکستان کیو ں بنایا گیا، میں نے دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں دیکھا جس میں اتنی بہترین جیوگرافی ہو۔ ہماری بیوروکریسی نے عوام کے ساتھ وہی رویہ روا رکھا ہے جو انگریز حکومت نے مقامی لوگوں کے ساتھ رکھا تھا۔ انگریز گورنر نے پختونوں پر ایک کتاب لکھی اور امریکی حکومت نے ان سے پاکستان سے تعلقات استوار کرنے میں مدد لی۔ ہماری ریاست نے کمیونزم سے مخالفت کی پالیسی اپنا کر اسلام کا پہرہ دار بننے کی پالیسی اپنالی۔امریکہ نے پاکستان کی ہر قومیت کے لوگوں پر ریسرچ کی اور اسی کے مطابق پاکستان کو ڈیل کیا۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ ہم تاریخ پڑھنے اور تحقیق کرنے سے قاصر ہیں، تاریخ تلخ ہوتی ہے اور غلطیوں کا احساس دلاتی ہے۔ ہم اگر ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر جمہوری اقدار مضبوط بنالیں اور ایک دوسرے کا وجود برداشت کرنے کی عادت ڈال کر معاشی میدان میں مضبوط ہوجائیں تو کوئی بھی سازش ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ بدقسمتی ہم آج تک قائد اعظم کا پاکستان نہیں بناسکے۔ ہمارالمیہ یہ ہے کہ ہم تاریخ سے سیکھنے اور اپنی اصلاح کے بجائے اس کو فراموش کردیتے ہیں جس کی وجہ سے ہم آج تک اپنی حالت بدلنے سے قاصر ہیں۔ جن معاشروں مذہبی اور اظہار رائے کی آزادی نہیں ہوتی وہ معاشرے تنزلی کا شکار رہتے ہیں۔ مذہبی، اظہار رائے کی آزادی اور مباحثے کے کلچر کو فروغ دیئے بغیر ہم ترقی نہیں کرسکتے۔

Exit mobile version