BBC Urdu TV

الحمدللہ ھم سب اس پاک عظیم وطن کے شہری ھیں اور ھماری جائے پیدائش وطن عزیز پاکستان

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

قرآن اور ھمارے حکمران ۔۔۔ !!

کالمکار: جاوید صدیقی

الحمدللہ ھم سب اس پاک عظیم وطن کے شہری ھیں اور ھماری جائے پیدائش وطن عزیز پاکستان ھے۔ پاکستان کو معروض وجود میں آئے تقریبا ً پچھہتر سال بیت گئے ھیں۔ پاکستان کررہ ارض پر دوسرا خالصتاً نظریہ اسلام شریعت اسلام کے تحت وجود میں آیا۔ اس اسلامی ریاست میں دینِ محمدی شریعت محمدی اسلامی قوانین کے تحت غیر مسلموں کے حقوق بھی ہیں جو احسن انداز میں ریاست کی جانب سے کئے جارھے ھیں مگر جن مسلمانوں کیلئے وجود میں آیا وہاں اکثریت اپنی حقوق سے محروم ھیں یقیناً عدم استحکام، عدم توازن، حق تلفی اور عدم انصاف کے سبب اسلامی ریاست اپنی روح کھودیتی ھے جس کا نتیجہ معاشی و معاشرتی تباہی کی صورت میں ابھرتا ھے۔ نبی کریم آخری الزماں محمد مصطفیٰ نے اپنی امت کو بہترین نظام ریاست عملی طور پر مدینہ المنورہ کی ریاست قائم کرکے دکھایا۔ آپ ﷺ کے نقشِ قدم پر چلتے ھوئے خلفائے راشدین نے بہترین باکمال انصاف پسند پر امن و خوشحال تابندہ نظام حکومت پیش کیں ھونا تو یہ چاہئے تھا کہ پاکستان کے حکمران اپنا دستور و آئین مکمل قرآن و شریعت کے مطابق رکھتے مگر ایسا نہ کیا بلکہ چوں چوں کا مربع بنادیا اسی سبب پاکستان دن بدن تننزلی کا شکار ھوتا چلا جارھا ھے اس عمل میں عوام اور حکمران برابری کے مجرم ھیں آئیے ھم عوام خود کو اور اپنے حکمرانوں کو قرآن میں دیکھتے ھیں ۔۔۔۔ معزز قارئین!! قرآن پاک کی سورة النساء آیت اٹھاون تا اکسٹھ / چار میں ارشاد باری تعالیٰ ھے ترجمہ: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں انہی لوگوں کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں، اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کیا کرو، بے شک اللہ تمہیں کیا ہی اچھی نصیحت فرماتا ہے، بے شک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہےo اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اہلِ حق صاحبانِ اَمر کی، پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے حتمی فیصلہ کیلئے اللہ اور رسول ﷺ کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، تو یہی تمہارے حق میں بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہےo کیا آپ نے اِن منافقوں کو نہیں دیکھا جو زبان سے دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس کتاب یعنی قرآن پر ایمان لائے جو آپ کی طرف اتارا گیا اور ان آسمانی کتابوں پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری گئیں مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے مقدمات فیصلے کیلئے شیطان یعنی احکامِ الٰہی سے سرکشی پر مبنی قانون کی طرف لے جائیں حالاں کہ انہیں حکم دیا جا چکا ہے کہ اس کا کھلا انکار کر دیں، اور شیطان تویہی چاہتا ہے کہ انہیں دور دراز گمراہی میں بھٹکاتا رہےo اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ قرآن کی طرف اور رسول ﷺ کی طرف آجاؤ تو آپ منافقوں کو دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف رجوع کرنے سے گریزاں رہتے ہیںo ۔۔۔۔ سورة ابراہیم آیت چھیالیس / چودہ میں اللہ تبارک تعالی ٰ فرماتا ھے ترجمہ : انہوں نے دولت و اقتدار کے نشہ میں بدمست ہو کر اپنی طرف سے بڑی فریب کاریاں کیں جب کہ اللہ کے پاس ان کے ہر فریب کا توڑ تھا، اگرچہ ان کی مکّارانہ تدبیریں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی اکھڑ جائیںo ۔۔۔ سورة محمد آیت تیرہ / سینتالیس میں ارشاد باری تعالیٰ ھے ترجمہ : اور اے حبیب! کتنی ہی بستیاں تھیں جن کے باشندے وسائل و اقتدار میں آپ کے اس شہر مکّہ کے باشندوں سے زیادہ طاقتور تھے جس کے مقتدر وڈیروں نے آپ کو بصورتِ ہجرت نکال دیا ہے، ہم نے انہیں بھی ہلاک کر ڈالا پھر ان کا کوئی مددگار نہ ہوا جو انہیں بچا سکتاo ۔۔۔ سورة محمد آیت بائیس۔تیئس /سینتالیس میں اللہ فرماتا ھے ترجمہ: پس اے منافقو !! تم سے توقع یہی ہے کہ اگر تم قتال سے گریز کر کے بچ نکلو اور حکومت حاصل کر لو تو تم زمین میں فساد ہی برپا کرو گے اور اپنے ان قرابتی رشتوں کو توڑ ڈالو گے جن کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مواصلت اور مُودّت کا حکم دیا ہےo یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور ان کے کانوں کو بہرا کر دیا ہے اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا ہے o۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! کاش ھمارے حکمران دن میں ایک بار چند منٹوں کیلئے قرآن پاک کا مطالعہ کرلیا کریں۔ کاش ھمارے عسکری قیادت کے سربراہ قرآن پاک کا روزانہ کی بنیاد پر مطالعہ کرلیا کریں۔ کاش ھمارے نوکرشاہی طبقہ روزانہ کی بنیاد پر قرآن پاک کا مطالعہ کرلیا کریں۔ کاش ھمارے مزدور رہنما بھی روزانہ کی بنیاد پر قرآن کا مطالعہ کرلیا کریں اور کاش ھماری قوم کا ہر فرد روزانہ کی بنیاد پر قرآن پاک کا مطالعہ کرلیا کرے تو سب کو احساس بیدار ھوجائیگا کہ اس کی تخلیق اور پیدائش کس لیئے کی گئی ھے۔ روزانہ قرآن کے مطالعہ و تلاوت سے وہ ایمان اور اطاعت خداوندی میں بندھا رہیگا اپنی زندگی کو نیکی انسانی خدمات اور قرآنی احکامات کی تکمیل میں مصروفِ عمل رکھے گا پھر اس کی زندگی سے ڈر خوف گھبراہٹ پریشانی کا احساس مٹ جائیگا کیونکہ وہ صابر و شاکر قناعت پسند ھوچکا ھوگا۔ حرص دولت نفرت بغض و عناد کا زہر مٹ چکے گا ہر سو خیر کی دعائیں درود و سلام کی صدائیں سنائی دیتی رھیں گے اور رب العزت بھی اپنی شان عظیم کے تحت رحمتوں کا نزول برکتوں کا انبار لگا دیگا ھم ہی ھیں جو خوش قسمتی کو چھوڑے ھوئے ھیں اور دنیاوی مستوی خداؤں کی اطاعت گزاری پر شرف سمجھتے ہیں جبھی ھم پر لعنت نحوست اور دجالی طوغ پڑے ھوئے ہیں ان اعمال کے سبب ھم خود کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رھے ھیں ھم من حیث القوم انتہائی سرکش اور نافرمان ھوتے جارھے ھیں خاص کر ھمارے حکمران اور بااختیار لوگ یہ سب جان لیں کہ پاکستان کو انشاءاللہ کچھ بھی نہیں ھوگا جو اس ریاست کو دانستہ و غیر دانستہ جانے سے یا انجانے سے نقصان پہنچانے والے خود برباد و ذلیل و خوار ھوجائیں گے یاد رھے اور تحقیق کرلیں کہ جس جس نے اختیارات کا بے جا استعمال کرتے ھوئے ظلم کی داستانیں رقم کیں تاریخ شاھد ھے کہ ان کی اموات انتہائی اذیت ناک کرب ناک عبرت ناک ھوئیں مگر مجھے تعجب ھے کہ پھر بھی اقتدار و اختیارات میں مست لوگ باز نہیں آرھے اور یہ بھی جانتے ھوئے کہ اصل زندگی بعد موت ہی ھے پھر بھی دو روزہ زندگی کیلئے عذاب اور دوزخ کا انتخاب کیا جارھا ھے۔ میری موت کے بعد میری تحریریں اس قوم کو بیدار کرتی رھیں گی کیونکہ اسی خطے سے غزوہ ہند شروع ھوگا اسی لیئے یہود و مشکرین پے در پے وطن عزیز کو اپنے سہولتکاروں ایجنڈوں کے ذریعے پاش پاش کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہیں گے مگر ھونا وہی ھے جو آسمانی فیصلے صادر ھونگے۔ وہ حکمران اور سپہ سالار انتہائی خوش نصیب ھونگے جو زمینی خداؤں سے ٹکرانے کا حوصلہ اور بھرپور ایمان کی طاقت رکھتے ھونگے وہ خوش نصیب حکمران اور سپہ سالار ھونگے جنہیں آسمان سے اللہ ﷻ اور رسول خدا ﷺ منتخب کریں گے جن کی مدد کیلئے خدائی فوج فرشتے ملائکہ ساتھ ھونگے یاد رکھئے ھم سب گمراہی میں ڈوبے ھوئے ہیں اور عقل سے عاری ھوچکے ہیں دجالی پیشواؤں کی جی حضوری میں سجدے کرتے تھکتے نہیں یوں تو ابھی سخت سرزشیں آنے کو تیار ھیں۔ ظالموں کے ظلم اور مظلموں کی آہوں کے سبب فرشتے زمین کو جھنجھڑنے کیلئے بیقرار ھیں بس اللہ ابھی بھی موقع دے رھا ھے اب بھی باز نہ آئے تو تباہ و بربادی سے کوئی نہیں بچاسکے گا۔ من حیث القوم اور بلخصوص حکمران و بااختیار لوگوں نے اپنے دل سیاہ کرلیئے ھیں۔ یاد رھے سیلابی پانی بھی سڑھ کر سیاہی مائل ھورھا ھے اب بھی باز نہ آئے تو اگلا قدم زمین کا پھٹ جانا مقصود ھوسکتا ھے گر ایسا ھوا تو بہت سے لوگ زمین میں غرق ھوجائیں گے۔ لوگ کہتے ھیں عام عوام کا کیا قصور یہی عوام اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کے نافرمانوں کو سر پر چڑھاتے ھیں بڑے بڑے نعرے جلسہ جلوس کامیاب کرتے ھیں انہی لوگوں کو شریف ایماندار دیانتدار اصول پسند اور سچا رہبر و رہنما قبول نہیں تو پھر بھگتیں اور اللہ ﷻ و رسول خدا ﷺ کی ناراضگی برداشت کریں آنے والے سال بہت ہی اس قوم کیلئے آزمائش کے ہیں عقل و شعور اور ایمانی مشعل سے راہ تلاش نہیں کی تو گمراہی اور تباھی مقدر میں لکھ دی جاسکتی ھے اور اگر من حیث القوم توبہ و استغفار کرکے اپنا قبلہ درست کرلیا تو دنیا پر حکمرانی کرسکیں گے نظام مصطفیٰ ﷺ رائج کرکے ۔۔۔۔۔!!

Exit mobile version