BBC Urdu TV

افواج پاکستان کی بدولت دفاع وطن مستحکم ہے اور عسکری اصطلاحات زبان کو مستحکم رکھنے

افواج پاکستان کی بدولت دفاع وطن مستحکم ہے اور عسکری اصطلاحات زبان کو مستحکم رکھنے میں اپنا حصہ شامل کر رہی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل

اصطلاحات کے تراجم کے عمل میں متعلقہ شعبے کے ماہرین اور وابستگان کی شمولیت نہایت ضروری ہے۔ ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر

عسکری پس منظر کے ڈرامے اور ناول عوام الناس کو عسکری اصطلاحات سے متعارف کروانے کاسبب بن رہے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد ضمیر

ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں اصطلاحات کے تراجم قومی شناخت کو برقرار رکھنے کا ذریعہ ہیں۔ ڈاکٹر عظیٰ فرمان

کراچی (بیوروچیف: جاوید صدیقی) ۶؍ستمبر ۲۰۲۳ء کو یوم دفاع کی مناسبت سے اُردو لغت بورڈ، کراچی میں اُردو زبان : عسکری اصطلاحات "تراجم اور مسائل” کے عنوان سے ایک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا آغاز حسب روایت تلاوت کلام اور شہدا کیلئے فاتحہ خوانی سے ہوا. تلاوت کی سعادت افسر حسابات وصی اللہ خان نے حاصل کی جبکہ نعت رسول مقبول سید عاقب علی نے پیش کی. ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر نے اپنے خصوصی لیکچر میں عسکری اصطلاحات کی زبان کے مرکزی دھارے میں شمولیت اور استعمال کی تاریخی مثالوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مختلف شعبۂ ہائے زندگی اور پیشوں سے متعلق اصطلاحات زبان کی ثروت مندی کی عکاس ہوتی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اب ہم مقامی یہ ملکی شہری نہیں بلکہ عالمی شہری ہوچکے ہیں چنانچہ ہمیں ہر لمحہ علم میں اضافے کی کوشش کرنا ہے لہٰذا ایک عام آدمی کیلئے بھی عسکری اصطلاحات کا سمجھنا ضروری ہوچکا ہے. لیکچر کے اختتام پر حاضرین کے پُر زور اصرار پر ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر نے تازہ کلام کے اشعار بھی پیش کئے اور خوب داد وصول کی. تقریب کے مہمانانِ اعزار ڈاکٹر عظمٰی فرمان، صدر شعبۂ اُردو، کراچی یونیورسٹی اور ڈاکٹر شاہد ضمیر نے بھی خصوصی لیکچر کے بعد اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر شاہد ضمیر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عسکری پس منظر کے ڈراموں اور ناول عوام الناس کو عسکری اصطلاحات سے متعارف کروانے کا سبب بن رہے ہیں۔ ڈاکٹر عظمٰی فرمان نے گفتگو کرتے ہوئے اصطلاحات کے تراجم میں بابائے اُردو مولوی عبدالحق کی رائے کا تذکرہ کرتے ہوئے کسی بھی اصطلاح کے ترجمے کیلئے متعلقہ شعبے کے افراد کے استعمال کو پیش نظر رکھنے کی اہمیت پر زور دیا کہ صرف اسی طرح اصطلاحات کے تراجم میں بھی اصطلاحی شان پیدا ہوسکتی ہے۔ تقریب کے اختتام سے قبل ڈائریکٹر جنرل ادارۂ فروغِ قومی زبان پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر صاحب کا پیغام اور کلماتِ تشکر بھی حاضرین کے سامنے پیش کیے گئے۔ ڈائریکٹر جنرل صاحب نے اپنے پیغام میں کہا کہ جس طرح افواج پاکستان کی بدولت دفاع وطن مستحکم ہے اسی طرح عسکری اصطلاحات زبان کو مستحکم رکھنے میں اپنی حصہ شامل کر رہی ہیں۔ تقریب کے شرکاء میں شعبۂ اُردو کراچی یونیورسٹی اور شعبۂ اُردو وفاقی اُردو یونیورسٹی کے ایم فل، پی ایچ ڈی کے طلبہ اور اساتذہ کیساتھ ساتھ شہر کے نامور اہل علم اور صحافی حضرات بھی شامل تھے۔

Exit mobile version