افغان قونصلیٹ کے عہدیداروں کی بد تہذیبی اور سفارتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی۔
افغان قونصلیٹ کے عہدیداروں کو وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے آج رحمت العالمین کانفرنس پر پشاور میں دعوت دی۔
پشاور(نمائندہ فاطمہ جعفر)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق افغان قونصلیٹ کے عہدیداروں کی بدتہذیبی اور سفارتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی۔افغان قونصلیٹ کے عہدیداروں کو وزیراعلی خیبرپختونخواہ علی امین گنڈاپور نے آج رحمت العالمین کانفرنس پر پشاور میں دعوت دی۔افغان کونسل جنرل محب اللہ شاکر پاکستان کے قومی ترانے کے دوران بیٹھے رہے اور سفارتی پروٹوکول کی دھجیاں اڑاتے ہُوئے ڈِڈھائی اور بے شرمی کے ساتھ اپنی سیٹوں پر بیٹھے رہے- قومی ترانے کا احترام نہ کر کے افغان کونسل جنرل محب اللہ شاکر نے اعلان کیا ہے کہ اسکو پاکستان اور پاکستانی قوم کا کوئی احترام نہیں یہ غیر معمولی واقع ہے اور سفارتی اداب کے بالکل برخلاف ہے، کسی مہذب معاشرے میں ایسی حرکت خلاف تہذیب ہوتی ہے۔ اس شخص کو ناپسندیدہ شخص قرار دیکر پاکستان سے بھیجا جائے، ماہرین
افغان کونسل جنرل کو دعوت دینے والی خیبرپختونخوا حکومت پر بھی سوال اٹھتا ہے کہ کیا انہیں پاکستان کی عزت اور سفارتی آداب کا کوئی خیال نہیں ہے، ماہرین
محکمہ خارجہ کو اس واقع کا نوٹس لینا چاہیے اور سفارت کاری اصولوں کی خلاف ورزی پر ڈیمارش دینا چاہیے. پاکستان کو کیا کرنا چاہیے:محب اللہ شاکر کو فوراً ملک بدر کریں۔افغانستان کے سامنے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کروائیں۔افغانستان کے ساتھ تعلقات پر دوبارہ غور کریں اور طے کریں کہ کیا حمایت جاری رکھی جائے یا نہیں۔ان سیاستدانوں کو جوابدہ ٹھہرائیں جو قومی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔یہ سوال باقی ہے: کیا پاکستان آخرکار اپنے وقار کا دفاع کرے گا یا افغانستان کے بڑھتے ہوئے عدم احترام کو جاری رہنے دے گا؟ قوم اس امید کے ساتھ دیکھ رہی ہے کہ پاکستان اپنے وقار کی بحالی کے لیے مضبوط ردعمل دے گا۔
