اعترافِ گناہ اور معافی کا طالب
آج میرے دوست کا انتقال ہوگیا اس کے دو بیٹے ہیں جنھیں میرے دوست نے حافظِ قرآن بنایا۔ چھوٹے بیٹے نے نمازِ جنازہ خود پڑھائی اور تدفین کی دعائیں بھی پڑھیں۔ماشاءاللہ بہت نیک تھا میرا دوست۔۔۔۔دوسروں کے ہر وقت کام آتا تھا۔ اللہ و رسول کی رضا کیلئے بےلوث خدمت کرتا تھا۔ ماشاءاللہ موت کے بعد اس کے چہرے پر نور اور مسکراہٹ تھی۔۔ میں نے اپنے اوپر نظر دوڑائی تو سراپا گناہ گار غلطیوں کوتاہیوں سے بھرا پایا۔ میں ہر ایک سے معافی کا طلبگار ہوں۔ گزارش التجا اور عرض کرتا ہوں کہ مجھ سے دانستہ غیر دانستہ, بلواسطہ و بلاواسطہ, واقف و غیر واقف, روشناس و اجنبی, اپنے و غیر گوکہ زندگی میں کسی کی بھی دلآزاری, تکلیف, درد, دکھ, اذیت و نقصان پہنچنے پر معافی چاہتا ہوں۔ اپنے غلط رویئے پر شرمندہ بھی ہوں۔ موت کا وقت متعین ہے مگر صرف وہ وقت اللہ ہی جانتا ہے۔میں غافل تھا اپنے گناہوں, غلطیوں اور کوتاہیوں سے لیکن قبرستان میں ہر ہفتے جانے سے حقیقی زندگی کا علم ہوا ھے۔ میں آپ سب کو اللہ اور اس کے حبیب و آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ دیتا ہوں کہ خدارا خدارا خدارا مجھے سچے دل سے معاف کردیں آپ سب کی مہربانی اور احسان ہوگا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ موت کے بعد معافی سے رہ جاؤں۔۔
شکریہ آپ سب کا معترف مجرم و گناہ گار جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی۔
