کابل: افغانستان میں روسی سفارتخانے نے انکشاف کیا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی ملک سے بھاگتے ہوئے ڈالرز سے بھری گاڑیاں ساتھ لیکر گئے۔
افغانستان میں روس کے سفارتخانے نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ طالبان کی کامیابیوں کے بعد افغانستان کے صدر اشرف غنی ملک سے بھاگتے ہوئے امریکی ڈالرز سے بھری ہوئی 4 گاڑیاں ساتھ لیکر گئے۔ وہ ڈالرز سے بھرا ہیلی کاپٹر بھی ساتھ لے گئے، جگہ نہ ہونے کے باعث کیش کی بڑی مقدار چھوڑنی بھی پڑی۔
اُدھر امریکا اور روس کے نمائندے خصوصی برائے افغانستان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ضمیر کابلوف اور زلمے خلیل زاد نے افغانستان کی صورتحال پر بات چیت کی، روس، پاکستان، چین اور امریکا افغانستان کی صورتحال میں بہتری کے لئے کردار ادا کرسکتے ہیں۔
دوسری طرف امریکا نے ایک مرتبہ پھر افغان طالبان کو سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہمارے لیے مشکلات پیدا کی گئیں تو سخت رد عمل ملے گا۔
یو ایس ڈپٹی سیکیورٹی ایڈوائزر جان فائنر کا کہنا تھا کہ دوحہ میں طالبان کےسفارتی مشن کے ساتھ رابطے میں ہیں، ائیرپورٹ کو محفوظ بنانے کا پلان موجود ہے، افغانستان میں دہشت گردی کے خطرے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
جرمن وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ کابل ائیرپورٹ پر کنفیوژن کی صورتحال ہے، واضح نہیں انخلاء کا عمل کب تک جاری رہے گا، کم از کم 10ہزار افراد کو کابل سے نکالنا ہے، انجیلا مرکل جرمنی کو افغانستان کے ہمسایہ ممالک سے بھی رابطے میں رہنا چاہیے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق کابل ایئرپورٹ پر اس وقت 7 ہزار افراد اپنے خاندانوں کے ہمراہ موجود ہیں، 7ہزارخاندان ہرصورت افغانستان سے نکلنا چاہتےہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل افغان حکومتی عہدیداروں کے فرار کے بعد صدارتی محل کا کنٹرول طالبان نے سنبھالتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں جنگ ختم ہوچکی ہے۔
ایک آن لائن ویڈیو افغان طالبان کے شریک بانی ملا عبدالغنی برادر نے بھی فتح کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ امتحان اور ثابت کرنے کا وقت ہے، اب ہمیں دکھانا ہے کہ ہم اپنی قوم کی خدمت کرسکتے ہیں اور آرام دہ زندگی اور تحفظ یقینی بناسکتے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ امریکا کی شکست کے بعد افغانستان میں امن و استحکام کے قیام کا موقع ملا ہے، ایران افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں کا بغور مشاہدہ کررہا ہے، افغانستان میں افغان شہریوں کی حکومت کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تمام افغان گروپوں سے قومی مفاہمت کے ذریعے ملک کے امور چلانے کا مطالبہ کرتے ہیں،ایران ہمسایہ ملک افغانستا ن کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
