اسلام آباد پولیس کے سب انسپکٹر صہیب پاشا نے غریب باپ پر قیامت ڈھادی تین دن تک دس اور بارہ سالہ بھائیوں سے جنسی زیادتیاں اور تشدد کرتا رہا ذرائع کے مطابق پمز ہسپتال کے ڈاکٹر کیفے سے بچوں کو اپنی مہران گاڑی میں اغواء کرکے لے گیا پہلے شمس کالونی اور پہر ایک پرائیویٹ جگہ ڈیرے پر لے گیا وہاں بچوں سے جنسی زیادتی کرتا رہا والد اپنے بچوں کو ڈھونڈتا رہا ون فائیو پر کال کی لیکن پولیس کو کوئی کامیابی نہ ملی تین دن بعد بچوں کو سب انسپکٹر صہیب ایدھی ہوم میں چھوڑ کر چلا گیا واقع کی خبر جب کرائم رپورٹر شبیر صیام نے بریک کی تو آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی نے نوٹس لے لیا ملزم پولیس آفسر سب انسپکٹر صہیب پاشا گرفتار ہوا اتنی درندگی کیا پولیس والا معصوم بچوں سے کر سکتا ہے ؟ صہیب پاشا خود شادی شُدہ اور تین بچوں کا باپ ہے عوام نے سخت سے سخت سزا کی اپیل کی ہے ملزم کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں اس ظالم کو سزا ملے
اسلام آباد : پمز ہسپتال سے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے دو سگے بھائی 12 سالہ عبداللہ اور 11 سالہ عبد الرحمٰن کو تین روز تک تھانہ شمس کالونی میں بند رکھنے، تشدد کرنے اور تھانے کے اندر پولیس کے سب انسپکٹر کی طرف سے دونوں بچوں کو مبینہ طور پر درندگی کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ "ھالیڈے ٹائمز” نے خبر بریک کی تو پولیس حکام نے واقعہ کہ تحقیقات شروع کردی ہے۔ اس حوالے سے موصولہ معلومات کے مطابق جہلم سے تعلق رکھنے والا اور منڈی موڑ اسلام آباد کا رہائشی محنت کش منیر احمد اپنے آٹھ سالہ بیٹے ریحان کو علاج معاملے کے لئے پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ لے کر آیا ہوا تھا۔ منیر احمد کی بیوی چار سال قبل انتقال کر گئی تھیں۔ گھر میں بچوں کا خیال رکھنے والی ماں نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے دونوں بیٹوں 12 سالہ عبداللہ اور 11 سالہ عبد الرحمٰن کو بھی ساتھ ہی پمز ہسپتال لے کر آیا ہوا تھا۔ 15 ستمبر 2024ء کی شام چھ بجے دونوں کمسن بھائی جوس لینے پمز ہسپتال کی کینٹین "ڈاکٹر کیفے” پر گئے۔ جہاں باوردی سب انسپکٹر صہیب پاشا نے دونوں بچوں کو گھیر لیا۔ متاثرہ بچوں کے مطابق پولیس آفیسر نے ان سے کہاکہ میں تمہارے والد کا بھائی ہوں میرے ساتھ چلو ۔ جس پر بچوں نے ان سے کہاکہ ہمارا ایک ہی چچا ہے اور اسے ہم جانتے ہیں۔ جس کے بعد پولیس آفیسر نے انہیں سخت لہجے میں اپنے ساتھ چلنے کا کہا اور سفید رنگ کی مہران گاڑی میں بٹھالیا۔ کمسن بچوں کے مطابق پولیس آفیسر ہمیں پہلے ادھر اُدھر گھماتا رہا پھر رات کو تھانہ شمس کالونی لے گیا جہاں اس نے اپنے کمرے میں لے جاکر ہم دونوں کو بند کر دیا۔ ہمیں جوتے سے اور سوٹیوں سے مارتا رہا پھر ہمارے ساتھ غلط کام کیا۔ ہمارے اوپر الزام لگاتے رہے کہ ہم نشہ کر رہے تھے۔ دوسرے روز ہمیں ہتھکڑیاں پہناکر کچہ سٹاپ گولڑہ موڑ کی طرف ایک ڈیرے پر لے گیا جہاں دوبارہ ہمارے ساتھ زیادتی کی۔ وہیں ویرانے میں اپنی گاڑی میں بھی ہمارے ساتھ شیطانی کھیل کھیلتا رہا۔ وہاں پولیس کی ایک وین بھی آئی اور پولیس اہلکاروں نے سب انسپکٹر سے ہمارے بارے میں بھی پوچھا کہ ان بچوں کو کیوں پکڑ رکھا ہے؟ جس پر سب انسپکٹر نے انہیں جھوٹ بول کر ڈال دیا۔ جس کے بعد مذکورہ سب انسپکٹر نے ہمیں ایدھی ہوم لاکر ان کے حوالے کر دیا۔ ایدھی ہوم سے ہم نے اپنے والد کو کسی کے موبائل فون سے فون کرکے اطلاع دی ۔ متاثرہ بچوں کے والد منیر احمد نے بتایاکہ دونوں بچوں کے اچانک لاپتہ ہونے پر میں نے ہر جگہ ان کی تلاش کی۔ ون فائیو پر کال کی۔ تھانہ کراچی کمپنی بھی گیا۔ جہاں موجود پولیس ملازم نعمان نے میری بہت مدد کی۔ لیکن بچوں کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔ تیسرے روز ایدھی ہوم سے بچوں نے فون کرکے اطلاع دی کہ ہم یہاں موجود ہیں۔جب بچوں کو یہاں سے نکالا تو بچوں نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستان سنائی تو میں ٹوٹ کر رہ گیا۔ سب انسپکٹر صہیب پاشا نے میرے بچوں پر نہ صرف جسمانی تشدد کیا بلکہ ان معصوموں کو جنسی درندگی کا نشانہ بھی بناتا رہا اور ایسی بھی قبیح حرکت کرتا رہا جو ناقابل بیان ہے۔ اس ظلم و زیادتی پر میں نے تھانہ کراچی کمپنی جاکر ایس ایچ او سب انسپکٹر نعیم الحسن کو سب کچھ بتایا۔ لیکن پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ ایک سوال کے جواب میں شہری منیر احمد نے کہاکہ نہ تو مذکورہ پولیس آفیسر سے میں پہلے کبھی ملا اور نہ ہی اسے میں جانتا ہوں۔ وہ میرے بچوں کو اپنے ساتھ لے گیا اور ان پر ظلم ڈھاتا رہا۔ ہمارے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔پولیس حکام پورے واقعہ کی کسی ایماندار پولیس آفیسر سے تحقیقات کروائے اور ہمیں انصاف دلائے۔
