BBC Urdu TV

اسلام آباد ( عبدالہادی قریشی)سید نیئر حسین شاہ بخاری نقوی کی اہلیہ کی وفات پر انتہائی رنج و غم

اسلام آباد ( عبدالہادی قریشی)سید نیئر حسین شاہ بخاری نقوی کی اہلیہ کی وفات پر انتہائی رنج و غم کا اظہار کرتے اور سابق چیئرمین سینٹ سید نیئر حسین بخاری و ان کے خانوادے سے اظہار تعزیت کرتے ہیں ، پیر سید محمد علی شاہ گیلانی

موت برحق ہے جو ہر جاندار کو ایک دن آ ہی جاتی ہے مالک الموت حضرت عزرائیل علیہ السلام کو اللہ کا جب حکم ملتا ہے وہ کائینات عالم میں موجود مخلوقات چاہے وہ جانور ہوں چرند ہوں پرند ہوں جنات ہوں یا انسان ہوں کی روح کو قبض بحکم پروردگار کرتے ہیں ، سجادہ نشین دربار شریف امام بری سرکار

سابق چیئرمین سینٹ اور اہم رہنما پاکستان پیپلز پارٹی سید نیئر حسین شاہ بخاری النقوی کی اہلیہ کی نماز جنازہ میں دربار شریف حضرت قبلہ پیر سید عبدالطیف شاہ کاظمی مشہدی بری امام سرکار کے سجادہ نشین حضرت قبلہ پیر سید محمد علی شاہ گیلانی نے شرکت کی
پیر سید محمد علی شاہ گیلانی سجادہ نشین دربار شریف امام بری سرکار نے کہا کہ موت کی تعریف یہی نہیں ہے کہ بات نہ کرنا کھانا پینا چھوڑ دینا چلنا پھرنا بند کر دینا ایک جگہ ساکن ہوکر لیٹے رہنا موت ہے موت کا معنی و مفہوم منتقل ہونا ہے پیر سید محمد علی شاہ گیلانی نے کہا کہ وہ ڈاکٹرز ہیں جنھوں نے ایم بی بی ایس کی ڈگریاں کی ہوئی ہیں وہ کہتے ہیں کہ وینٹیلیٹر مشین پر لکیر سیدھی ہو چکی ہے بندہ مر گیا ہے وہ ڈاکٹرز کا نظریہ ہے کہ اگر سانسیں بند ہو جائیں انسان بات چیت کرنا کھانا پینا چھوڑ دے پھپھڑے خون بنایا بند کر دیں گردے صحیح کام کرنا ترک کر دیں یہ موت یہ نظریہ ڈاکٹرز کا صرف دنیا کی حد تک ہے اب کوئی انسان مر گیا اس انسان کو ہمیں کھڈے میں پھینک دینا چاہیئے نہیں نہیں دین اسلام کہتا ہے کہ موت درحقیقت کیا ہے اسلام اور میرے نانا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی شریعت میں دل میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اور آل محمد ع کی مودت محبت عقیدت کا ختم ہو جانا موت ہے یعنی کوئی انسان کعبتہ اللہ کے جتنے مرضی چکر لگاتا رہے اس کا عمرہ حج تب تک اللہ قبول نہیں کرے گا جب تک اس انسان کے دل میں بغض آل محمد ع رہے گا پیر سید علی گیلانی نے کہا کہ دین اسلام اور میرے نانا جان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی شریعت میں موت آل محمد ع کی محبت کا دل سے ختم ہو جانا ہے اور یہ جو انسان دنیا سے رخصت لیتا ہے اور چلنا پھرنا کھانا پینا بند کر دیتا ہے درحقیقت وہ مرتا نہیں ہے بلکہ فانی جہاں سے مستقل جہاں میں منتقل ہو جاتا ہے

پیر سید محمد علی شاہ گیلانی نے کہا کہ اگر کوئی انسان بات چیت کرنا بند کر دے سانسیں چلنا بند ہو جائیں سمجھ جائیں یہ انسان فانی جہاں کو اللہ کے حکم سے چھوڑ گیا ہے فانی جہاں سے اس انسان کا کھانا پینا مکمل ہو گیا ہے اب وہ جو فانی جہاں میں تھا وہ قبر میں پہنچایا گیا ہے اور وہ دنیا سے جانے والا اپنی ظاہری حالت میں اٹھایا جائے گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا دیدار کرے گا منکر نکرین کے سوالات کے جوابات دے گا مولا علی ع کا دیدار کرے گا اب جو انسان دنیا میں ایمان سے مر چکا ہو کیا اسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا دیدار ہو سکتا ہے ممکن ہی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار اور قبر میں فرشتوں کے سوالات میں آسانی اسی انسان کے لیئے ہوتی ہے جس کے دل میں آل محمد ع کی شمع ہوتی ہے

پیر سید علی ع گیلانی نے کہا کہ اب ایک بندہ دنیا سے جا رہا ہے پروردگار نے حکم دے دیا یہ بندہ میرا ہے اسے جلانا نہیں ہے اسے کھڈے میں پھینکنا نہیں ہے اسے دریا یا سمندر میں نہیں ڈالنا مولا بتا کرنا کیا ہے اس دنیا سے جانے والے کا اللہ کہہ رہا ہے اس کا اعلان کرواؤ دنیا والوں کو بتاؤ پتہ چلے اعلانات سے لوگوں کو آج فلاں کا بیٹا فلاں کا دادا فلاں کی اہلیہ رخصت ہو گئی ہے اللہ آگے بتا کیا کریں ارشاد ہوا اب اسے غسل دو صاف پانی سے تختے پر لٹاؤ دنیا سے آنے والا کوئی عام نہیں میرا اپنا مہمان ہے میت کو غسل دو خوشبو لگاؤ
پیر علی گیلانی نے کہا کہ پھر ارشاد ہوا غسل ہو گیا اب تدفین کا انتظام کرو اب اس مرنے والے کی قبر کھودو اس کو چارپائی پر ڈال کر قبرستان تک لاؤ اور چار لوگ آگے سے چار پیچھے سے پکڑیں باقی جنازے کے پیچھے چلیں تا کہ پتہ چلے دنیا کو میرا مہمان آ رہا ہے پیر علی ع گیلانی نے کہا کہ دنیا سے جانے والوں کو اللہ نے جس طرح رخصت کرنے کا حکم دیا وہ بے مثال ہے

Exit mobile version