اسلام آباد۔(کرائم رپورٹر طلحہ راجہ۔ بی بی سی اردو) چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے آج سپریم کورٹ بیٹ رپورٹرز سے طویل ملاقات کی انہوں نے انصاف کی فوری فراہمی بارے اقدامات سے آگاہ کیا مختلف سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں کچھ ججز کے حوالے سے انکوائری جاری ہے گزشتہ دو تین سال میں مقدمات کی سماعت کے حوالے سے ججز کے باہمی تعلقات وقت کے ساتھ بہتر ہو جائیں گے جس جج نے جب بھی چھٹی مانگی یا بیرون ملک جانے کا کہا میں نے ان کی فورا چھٹی منظور کی بلوچستان کے دورہ کے دوران پانچ بار ایسوسی ایشنز نے مسنگ پرسنز کے حوالے سے باتوں نے مجھے ہلا کر رکھ دیا یہ معاملہ ہائی کورٹس کے اختیار سماعت کا ہےمیں نے کہا پہلے مجھے دوسرا موقف بھی لینے دیں گفتگو کے دوران ایک موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اتنی جلدی چیف جسٹس بنا کہ حلف برادری کی تقریب کے لیے نیا سوٹ بھی نہیں لے سکا صحافیوں سے ہر دو ماہ بعد کوشش ہو گی ملاقات ہو اس سوال پر کہ فاضل جج صاحبان کے شکایتی خطوط تو میڈیا میں آ جاتے ہیں لیکن ان خطوط کے چیف جسٹس کی جانب سے جوابات سامنے نہیں آتے تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا میرا خیال ہے کہ اب تصویر بنانے کا وقت ہو گیا ہے اور پھر کمیٹی روم کے باہر لگی کرسیوں پر تمام رپورٹرز کے ساتھ تصویر بنوائی اور تقریب ختم ہو گئی
اسلام آباد۔(کرائم رپورٹر طلحہ راجہ۔ بی بی سی اردو) چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی
