BBC Urdu TV

اسرائیل کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کرنے کا فیصلہ عالمی نظام کیلئے چیلنج ہے۔حماس

اسرائیل کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کرنے کا فیصلہ عالمی نظام کیلئے چیلنج ہے۔حماس

صیہونی ریاست کے اپنے رویے کے ذریعے پہلے ہی ثابت کر چکا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔اسلامی تحریک مزاحمت

غزہ(انٹرنیشنل ڈیسک)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت(حماس )نے کہا ہے کہ اسرائیلی دہشت گرد حکومت کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی نظام کے لئے  ایک چیلنج ہے۔صیہونی ریاست کے اپنے رویے کے ذریعے پہلے ہی ثابت کرچکا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ اسرائیل کا یہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں سے انحراف ہے، ہمارے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت سے انکار اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔مرکز اطلاعات فلسطین کوموصول ہونے والے ایک بیان میں حماس نیزور دے کر کہا کہ تیس سال سے زیادہ عرصہ قبل مذاکرات کے آغاز کے بعد سے صہیونی دشمن کی پالیسی صرف وقت کے حصول پر مبنی رہی ہے۔ اس دوران وہ زیادہ سے زیادہ فلسطینی اراضی کو چوری کرنا، اسے یہودیت میں بدلنا اور بستیوں کو وسعت دیتے ہوئے فلسطینی ریاست کے وجود کے تمام امکانات کو ختم کرنا ہے۔اسرائیلی قابض وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے زور دیا کہ ان کا ملک فلسطینی ریاست کو یکطرفہ طور پر تسلیم کرنے کی مخالفت جاری رکھے گا ۔نیتن یاہو نے “ایکس” پلیٹ فارم (سابقہ ٹویٹر)پر اپنے اکائونٹ کے ذریعے شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ان کی حکومت کے ہفتہ وار اجلاس میں فلسطینی ریاست کو یک طرف طور پر تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Exit mobile version