*اردو اصناف سخن کو مسلکی نقطہ ء نظر سے بالاتر ہو کر دیکھنے اور صحیح مقام دینے کی ضرورت ہے، ڈاکٹر ہلا ل نقوی*
*اردو مرثیہ اردو زبان کا لسانی محافظ ہے، اصغر مہدی اشعر*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) ادارہ فروغ قومی زبان کے فیلڈ دفتر اردو لغت بورڈ کراچی میں فرہنگ دبیر اور فرہنگ انیس کی ضرورت و اہمیت کے عنوان سے ایک روزہ سیمینار اور تقریب پذیرائی کا انعقاد کیا گیا۔ ادارہ کے زیر اہتمام حال ہی میں اصغر مہدی اشعر صاحب کی مرتب کردہ فرہنگ دبیر پہلی مرتبہ شائع کی گئی،اس سے قبل رواں سال میں ہی فرہنگ انیس کا دوسرا ایڈیشن بھی زیور طباعت سے آراستہ ہوا، فرہنگ انیس کے مرتب بھی اصغر مہدی اشعر ہیں، اس کا پہلا ایڈیشن 2019 میں اردو لغت بورڈ نے شائع کیا تھا جو طویل عرصے سے آوٹ آف اسٹاک تھا اور اب ادارے کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر کی سرپرستی میں فرہنگ انیس کی دوسری اشاعت کے ساتھ ہی فرہنگ دبیر کی اشاعت کا اہتمام کیا گیا۔رواں ماہ کے وسط میں ان فرہنگوں کے مرتب اصغر مہدی اشعر کینیڈا سے نجی دورے پر پاکستان تشریف لائے، جن کی پذیرائی اور اردو لغت بورڈ کے ساتھ فرہنگ نویسی کے ضمن میں قابل قدر تعاون کے اعتراف میں ادارے کی جانب سے ڈاکٹر ہلال نقوی کی زیر صدارت ایک روزہ سیمینار اور تقریب پذیرائی کا اہتمام کیا گیا، اس تقریب کے مہمان خصوصی اصغر مہدی اشعر تھے جبکہ مہمانان اعزاز میں ڈاکٹر جاوید منظر، ڈاکٹر شاہد ضمیر اور جی ایم پاکستان ٹیلی ویژن کراچی سینٹر سید امجد حسین شاہ کے نام شامل تھے۔ سیمینار میں سابق مدیر اعلی اردو لغت بورڈ ڈاکٹر عقیل عباس جعفری، سید جاوید حسن اور علامہ فیصل بیگ عزیزی نے اظہار خیال کیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض اسلامیہ کالج کے لیکچرار سید قدیس علی رضا نے انجام دیے۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام ربانی سے ہوا جس کی سعادت ادارے کے اکاونٹ افسر وصی اللہ خان نے حاصل کی، جبکہ حمد باری تعالی ادارے کے رکن سید عاقب علی نے پیش کی۔اس کے بعد مہمان ثنا خوان اور نعت خوانی کے اولین رسالے نعت نیوز کے مدیر محمد زکریا شیخ الاشرفی نے ہدیہء نعت پیش کرنے کے بعد ماہ رجب کی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یوم ولادت سے نسبت کی رعایت سے "قول” پیش کیا جسے حاضرین نے نہایت عقیدت اور ذوق سے سماعت کیا اور خوب تحسین کی۔ادارے کی جانب سے استقبالیہ پیش کرتے ہوئے فیلڈ دفتر اردو لغت بورڈ کے انچارچ طارق بن آزاد نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور فرہنگ دبیر اور فرہنگ انیس کی مدد سے دبیر و انیس کے سرمایہء لفظی کے تجزیے کے لیے میسر آنے والی سہولت کی جانب توجہ دلائی اور ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے مستقبل میں اصغر مہدی صاحب کی مرتب کردہ چارجلدوں پر مشتمل فرہنگ مرثیہ کا اردو لغت بورڈ کے زیر اہتمام اشاعت کا عندیہ دیا اور ادارے کے زیر اہتمام مولانا احمد رضا خان کے نعتیہ کلام حدائق بخشش کی فرینگ کی عن قریب اشاعت کا اعلان بھی کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عقیل عباس جعفری نے اصغر مہدی اشعر صاحب سے ملاقات اور ان فرہنگوں کے لیے مہمیز کرنے کے پس منظر سے حاضرین کو آگاہ کیا، سید جاوید حسن نے فرہنگ نویسی کے ضمن میں اصغر مہدی کے شغف کا تذکرہ کرتے ہوئے دبیر و انیس کے اردو ادب میں مقام اور اہمیت پر روشنی ڈالی، علامہ فیصل بیگ عزیزی نے انیس و دبیر کی لفظیات اور کسی بھی شاعر یا ادیب کی فرہنگ کی خصوصی اہمیت پر گفتگو کی۔ مقررین کے بعد مہمانان اعزاز نے تاثرات کا اظہار کیا، اس موقع پر اردو لغت بورڈ سے پینتیس برس کی طویل وابستگی کے بعد بحیثیت مدیر اعلی سبک دوش ہونے والے ڈاکٹر شاہد ضمیر نے جوش ملیح آبادی کی رباعی کے تناظر میں لفظ و معنی کے رشتے پر گفتگو کی اور اصغر مہدی صاحب کو فرہنگ کی تدوین پر مبارک بعد پیش کی جبکہ معروف ادیب و شاعر ڈاکٹر جاوید منظر نے گفتگو کے ساتھ میر انیس کو منظوم خراج تحسین بھی پیش کیا۔ صدارتی خطاب سے قبل تقریب کے مہمان خصوصی فرہنگ دبیر اور فرہنگ انیس کے مرتب اصغر مہدی اشعر صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے اس پذیرائی پر اردو لغت بورڈ کراچی اور ادارہ فروغ قومی زبان کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر کا خصوصی شکریہ ادا کیا، انھوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ اردو مرثیہ اردو زبان کا لسانی محافظ ہے کیونکہ اس صنف کی بدولت ایسے الفاظ کا چلن بھی باقی رہتا ہے جن کا عمومی زبان میں استعمال محدود یا متروک ہوجاتا ہے، انھوں نے فرہنگ نویسی کے سفر میں علمی تعاون کرنے والے احباب بالخصوص صدر محفل ڈاکٹر ہلال نقوی، ڈاکٹر عقیل عباس جعفری، اردو لغت بورڈ کے انچارج طارق بن آزاد، سید جاوید حسن، جوہر عباس، ارم اقبال نقوی، بشارت حسین، ریحان حسن و دیگر کا بار دگر شکریہ ادا کیا۔
تقریب کا اختتام ڈاکٹر ہلال نقوی کے صدارتی خطاب پر ہوا، جن کی گفتگو سننے کے لیے خاص طور پر حاضرین کی ایک بڑی تعداد تقریب میں موجود تھی، ڈاکٹر ہلال نقوی نے اصغر مہدی اشعر کی فروغ مرثیہ کے سلسلے میں خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اردو اصناف سخن کو مسلکی نقطہ ء نظر سے بالاتر ہو کر دیکھنے اور صحیح مقام دینے کی ضرورت ہے، مرثیہ کسی ایک طبقے سے متعلق نہیں بلکہ یہ اردو کی ایک صنف ہے، اور اسی تناظر میں اسے دیکھا اور پرکھا جانا چاہیے۔ ڈاکٹر ہلال نقوی نے فرہنگ دبیر اور فرہنگ انیس کی اشاعت کو اردو لغت بورڈ کا احسن اقدام قرار دیا اور ابتدائی زمانے سے ادارے میں اپنی آمد و رفت اور نسیم امروہوی، قدرت نقوی و دیگر اہل علم سے ملاقات کی یادوں میں حاضرین کو بھی شریک کیا۔ سیمینار کے موضوع کی اہمیت اور مہمانان گرامی کے پینل کی انفرادیت کی بنا پر طلبہ، اساتذہ ، نامور اہل قلم اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمائندہ شخصیات نے تقریب میں شرکت کی، ان میں معروف فلمی ناقد اور صحافی خرم سہیل، ڈاکٹر سعید حسن قادری، ڈاکٹر عرفان اللہ ، ڈاکٹر ذکیہ رانی، ڈاکٹر نوشابہ صدیقی، ڈاکٹر عرفان شاہ، عارف سومرو، انجینئر مسعود اصغر کمالی، جوہر عباس، غضنفر جاوید، ریحان حسن، بشارت حسین و دیگر کے نام شامل ہیں۔ اس موقع پر ادارے کی مطبوعہ فرہنگ اور فروغ مرثیہ انٹرنیشنل کی مطبوعات کا اسٹال بھی لگایا گیا جس میں تقریب کے شرکاء نے خصوصی دلچسپی اور کتب خرید کر مرتب اصغر مہدی اشعر کے دستخط بھی حاصل کیے جبکہ ادارے کی جانب سے مہمانان گرامی کی خدمت میں فرہنگ دبیر اور فرہنگ انیس کے نسخے اعزازی پیش کیے گئے۔
