اختیارات ملنے کے بعد پٹرولنگ پولیس بھی پنجاب پولیس کے نقش قدم پر چل پڑی پنجاب ہاٸی وے پٹرولنگ پوسٹ مصری موڑ پر تعینات عملے کا آٸے روز محنت مزدوری کیلٸے راجن پور سے آٸے سرداٸی شربت والے محنت کش کو ہراساں کر کے سرداٸی پینا اور پیسے دیٸے بغیر ہراساں کرتے ھوٸے رفو چکر ھو جانا معمول بن گیا نیشنل بینک ڈھیری آراٸیاں کے سامنے بیٹھے راجن پور سے آٸے شکیل نامی محنت کش کا کہنا ھے کہ مصری موڑ پٹرولنگ پولیس کے آصف نامی اہلکار آئے روز پٹرولنگ گاڑی آتی ھے اور آ کر مختف طریقوں سے ہراساں کرنا شروع کر دیتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم جب چاہیں تمہیں یہاں سے اٹھوا سکتے ہیں تمہارے اوپر تو پرچہ بھی بنتا ھے ایک تو مفت میں شربت پیتے ہیں دوسرا ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ بغیر کسی وجہ کے بیعزت کرتے ہیں دوسری جانب پٹرولنگ پوسٹ مصری موڑ کے باکمال جوانوں کو ڈیوٹی بی یاد آتی ھے تو جلالپورشریف کی گلیوں کے سامنے جہاں گاڑی کھڑی کر کے ناکہ لگا دیا جاتا ھے اور جونہی مقامی افراد دودھ دہی یا سودا سلف لینے کیلٸے گھر سے باہر نکلتے ہیں تو ناکہ لگاٸے باکمال ملازمین ہیلمٹ نہ پہننے پر جرمانہ کر دیتے ہیں یوں افسران بالا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنی کارکردگی ظاہر کی جاتی ھے در اصل پٹرولنگ چیک پوسٹ مصری موڑ پر تعینات زیادہ تر ملازمین مقامی ہیں جو اپنے عزیزواقارب اور دوستوں کی خواہشات پر بھی لوگوں کو جرمانے کرتے ہیں تاہم علاقہ مکینوں نے نگران وزیر اعلی پنجاب اور ڈی پی او جہلم سے مطالبہ کیا ھے کہ پٹرولنگ چیک پوسٹ مصری موڑ پر تعینات عملے کی کاکردگی پر اعلی سطح پر غیر جانبدارانہ انکواٸری عمل میں لاٸی جاٸے اور حقاٸق واضح ھونے پر سخت محکمانہ کارواٸی عمل میں لاٸی جاٸے تاکہ مہنگاٸی میں پسی عوام کو کرپٹ ملازمین کے عتاب سے بچایا جاسکے۔
رپورٹ : عمران حیدرببلی
