عید آئی ہے، کیسی دھوم دھام سے
مناتے ہیں مسلمان، اسے بڑی شان سے
کہیں بنتی ہیں سویاں
تو کہیں شیرخورما
سجتا ہے دسترخوان پر
بریانی اور قورمہ
نت نئے رنگوں کی، پوشاک ہے پہنی جاتی
رنگ حنا ہاتھوں کی
زینت بھی ہے بڑھاتی
ہنسنا، ہنسانا۔ ۔ ۔ ملنا، ملانا
پر دیکھو یہ نا بھول جانا
رکھنا خیال انکا، جو ہیں نادار
بےبس و مجبور، اور لاچار
دے دینا دسترخوان پر، تھوڑی سی جگہ انکو
دینا تحفے میں کچھ کپڑے
ہو ضرورت لباس کی جنکو
بھلا کر ساری ناراضگیاں
پہل کر کے مل لینا
اور جو چاہو خود کی معافی
تو سیکھو معاف کرنا
آیا دل میں خیال
دیکھا جو عید کا ہلال
مٹ جائے ہر دکھ زمانے سے
جو کر لیں ہم سب
ایک دوسرے کا خیال
(کاشف شمیم صدیقی)
