آنکھ کا ارتقاء : زمین پر زندگی 3.7 ارب سال پہلے وجود میں آئی۔
پہلا خلیہ جو خود کو تقسیم کر سکتا تھا۔ اس سے یک خلوی جاندار بنے۔ زمین پر زندگی کے لئے ماحول موافق ہوتا گیا۔ سمندروں میں اور فضا میں آکسیجن بڑھی۔ جانداروں کی نئی اقسام سمندروں میں وجود میں آئیں۔ زندگی کے لئے سورج کی روشنی ضروری تھی۔ سمندروں میں ابتدائی جانداروں کا دھوپ اور چھاؤں کا فرق جاننا بقا کے لیے اہم ہو گیا۔ دھوپ اور چھاؤں کے فرق کی خصوصیت نے روشنی کو محسوس کرنے، اسکے اندر موجود رنگوں کو جاننے کی خصوصیت پیدا کی۔ اب جاندار رنگ دیکھ سکتے تھے۔ رنگوں کو بہتر طور پر دیکھنے کے بعد انہیں ذہن کے پردے پر تصویروں کی شکل میں دیکھا جانے لگا۔ پہلی عدسے نما آنکھ وجود میں آئی۔ آنکھ کا ارتقا ہوا۔ جانور سمندروں سے خشکی پر آئے۔ خشکی پر ممالیہ جانور ارتقا پذیر ہوئے۔ آنکھیں بڑی ہوتی گئیں۔ انسان وجود میں آیا۔ دو ٹانگوں پر کھڑا انسان آسمانوں کی سمت دیکھنے لگا۔ زمین سے دور کھربوں کلومیٹر دور ستارے۔ آنکھ کا ارتقاء سمندروں سے شروع ہوا اور خشکیوں تک آیا۔ یہ سلسلہ یہاں نہیں تھما۔ انسانوں نے اسے آگے بڑھایا۔ دوربینیں ایجاد ہوئیں۔ زمینی دوربینیں۔۔ وقت گزرتا گیا ۔ عقلِ انساں بڑھتی رہی۔ آج سے 25 سال پہلے ہزاروں انسانوں نے ٹھان لی کہ اب خلا میں ایک بڑی دوربین بھیجی جائے۔ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی خلائی دوربین جو خلا میں نوع انسان کی آنکھ ہو۔ جو وہ دیکھ سکے جو آج تک کوئی نہ دیکھ سکا۔ وہ کائنات دیکھی جائے جو زمین پر زندگی کے وجود سے بھی اربوں سال پہلے کی تھی۔ ابتدائی کائنات جب ابھی نئے نئے ستارے بنے تھے۔ زمین اور سورج سے کروڑوں میل دور خلا میں سورج کے گرد چکر لگاتی یہ دوربین آج سے تقریباً چھ ماہ قبل خلا میں بھیجی گئی۔۔اور آج یعنی 12 جولائی 2022 کو اُس نے انسانوں کو کائنات کے ابتدائی دور کی کہکشائیں دکھائیں۔
زیر نظر تصویر ابتدائی کائنات کی کہکشاؤں کے ایک جھرمٹ کی ہے جسے SMACS 0723 کا نام دیا گیا ہے۔ ہم یہ جھرمٹ نہیں ماضی میں جھانک رہے ہیں۔ ہم آج سے 4.6 ارب سال پہلے کی کائناتی کہکشاؤں کو دیکھ رہے ہیں۔ مگر رکئے یہی کافی نہیں ۔ تصویر کے پس منظر میں نظر آنے والےہلکے سرخ دھبے دراصل ابتدائی کہکشائیں اور ستاروں کے جھرمٹ ہیں جو 13.8 ارب سال پہلے بننے والی کائنات کے محض 60 کروڑ سال بعد کی ہیں۔
آنے والے دنوں میں سائنسدان ان پر مزید تحقیق کریں گے اور مستقبل میں ہم جان پائیں گے کہ ابتدا میں کائنات کیسی تھی۔
جستجو کا سفر تھما تو نہیں
آنکھ کا ارتقاء رکا تو نہیں
#ڈاکٹر_حفیظ_الحسن
کچھ حوالہ جات:
1.https://www.nasa.gov/image-feature/goddard/2022/nasa-s-webb-delivers-deepest-infrared-image-of-universe-yet
2.https://www.esa.int/ESA_Multimedia/Images/2022/07/Webb_s_first_deep_field
3.https://www.bbc.com/news/science-environment-62122859
