آغا خان یونیورسٹی کانووکیشن، کامیابی کا ایک اور تاریخی سال مکمل۔
طلباء کو چاہئے کہ وہ جوش حوصلے اور رجائیت پر پروان چڑھتے رہیں اور ایسے مواقع پیدا کریں جو آپکو اپنے معاشرے کی خدمت اور اسے پرامن بنانے میں مدد فراہم کریں۔پرنسس زہرہ آغا خان
کراچی(نمائندہ عینی خان)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق آغا خان یونیورسٹی سے گریجویشن کی تقریبات میں چار ممالک کے 730 سے زائد طلباء نے حصہ لیا، جہاں پرنسس زہرہ آغا خان اور دیگر معززین نے شرکت کی اور دنیا بھر میں یونیورسٹیوں نے ان تقریبات کو آن لائن دیکھا۔پرنسس زہرہ آغا خان، جنہوں نے آغا خان یونیورسٹی کے بانی اور چانسلر، ہز ہائینس دی آغا خان کی جانب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ”گریجویشن کرنے کے بعد آپ ایک ایسی دنیا میں واپس آتے ہیں جو مشکلات سے بھری ہونے کے ساتھ ساتھ لامتناہی امکانات سے بھی بھرپور ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ طلباء کو چاہیے کہ وہ جوش، حوصلے اور رجائیت پر پروان چڑھتے رہیں اور ایسے مواقع پیدا کریں جو آپ کو اپنے معاشرے کی خدمت اور اسے پر امن بناے میں مدد فراہم کریں۔اس موقع پر بانی کرن فاؤنڈیشن، سبینہ کھتری نے بطور مہمان خصوصی طلباء و طلبات میں ڈ گریاں تقسیم کیں۔پاکستان بھر میں 391 طلباء نے گریجویشن کیا جن میں سے 70 فیصد سے زیادہ خواتین شامل ہیں جنہوں نے نرسنگ، میڈیسن اور ایجوکیشن میں اپنی گریجویشن کو مکمل کیا۔اس موقع مہمان خصوصی نے کہا کہ” میں آپکی تعلیمی مہارتوں سے پر امید ہوں اور مجھے یقین ہے کہ کامیابیوں کی دوڑ میں آپ مجھ سے بھی کہیں آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور میں ہز ہائینس دی آغا خان کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گی کہ انہوں نے لاتعداد نوجوانوں بشمول آغا خان اسکولزو کالجز میں پڑھنے والے طلباء اور کرن اور حبیب جیسے آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ سے منسلک طلباء کو ان کی صلاحیتوں کو پورا کرنے میں مدد کی۔انہوں نے مزید کہا کہ طلباء اپنی بے پناہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر آغا خان یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیوں کے دوران علم سیکھنے کے ساتھ ساتھ دیگر تعلیمی کامیابیاں حاصل کریں گے۔پرنسس زہرہ آغا خان نے آغا خان یونیورسٹی کے بانی اور چانسلر، ہز ہائینس دی آغا خان کی جانب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ”گریجویشن کے بعد آپ ایک ایسی دنیا کی طرف واپس آتے ہیں جو مشکلات کے ساتھ ساتھ لامحدود امکانات سے بھرپور ہے۔“انہوں نے مزید کہا کہ، ”طلباء کو چاہیے کہ وہ جوش، حوصلے اور امید کے ساتھ ایسے مواقع پیدا کریں جو انُ کے لیے اپنے معاشرے کی خدمت اوراسے زیادہ تکثیری اور پر امن بنانے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔پرنسس زہرہ نے کہا کہ ”ہمیں امید ہے کہ یہ نئے اور جاری پروگرامز اور سہولیات آغا خان یونیورسٹی کو لیڈرز کی تعلیم، متعلقہ علم کی تخلیق، عالمی معیار کی تعلیم و صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی کے لیے ایک طاقتور پلیٹ فارم بنائیں گے۔اس موقع پر سلیمان شہاب الدین، صدر، آغا خان یونیورسٹی نے گریجویٹس سے خطاب میں کہا کہ”گریجویٹس کے لئے یہ ایک فخر کا وقت ہیکہ یونیورسٹی نے اپنے قیام سے لے کر اب تک تقریباً 20,000 ڈپلومے، ڈگریاں اور پوسٹ گریجویٹ سرٹیفکیٹس سے طلباء کو نوازا ہے۔انہوں نے یونیورسٹی کے مستقبل کے منصوبوں کا خاکہ پیش کیاجس میں پانچ سالہ اسٹریٹجک پلان کے مطابق ڈیٹا سائنس سے لے کر اساتذہ کی تعلیم تک کے شعبوں میں ایک درجن کے قریب نئے ڈگری پروگرام جس میں دماغی صحت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر شعبوں میں تحقیقی صلاحیت کو بڑھانا،
آغا خان یونیورسٹی کے صحت کے نظام کو وسعت دینا،اندرون و بیرون ملک سرکاری اور نجی اداروں کے ساتھ یونیورسٹی کی شراکت داری کو گہرا کرنا اور معروف بین الاقوامی تنظیموں سے تعلیمی اور صحت کی دیکھ بھال کی منظوری وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ”ہز ہائینس دی آغا خان کا وژن ہماری رہنمائی کرتا رہتا ہے اور ہمیں جرات مندانہ فیصلے کرنے کی طاقت دیتا ہے جس سے ہم اس تحریک کو جدت اور معیار سے آگے بڑھا سکیں،آغا خان یونیورسٹی نے ہز ہائینس دی آغا خان کی بدولت گزشتہ چار دہائیوں سے کامیابیوں کے سفر کی طرف گامزن ہے۔اسکول آف نرسنگ اینڈ مڈوائفری نے زہرہ امان اللہ کو سب سے زیادہ مجموعی گریڈ پوائنٹ اوسط حاصل کرنے پر شاندار گریجویٹ اورنرسنگ پریکٹس ایوارڈ سے نوازا۔
میڈیکل کالج نے بیچلر آف میڈیسن، بیچلر آف سرجری پروگرام کے گریجویٹ کو اپنا13واں گولڈ میڈل دیا۔ علیزہ پرویز ہاشمی نے فائنل امتحان سمیت چار تصدیقی امتحانات میں سے کم از کم تین میں ٹاپ اسکور حاصل کرنے پر میڈل حاصل کیا۔
