آج ہمارے معاشرے میں بے چینی کی بڑی وجہ ہماری بداعمالیاں ہیں۔ہمارے بد اعمال ہی ہیں جن کا پرتاؤآخرت میں تپش کی صورت ہم یہاں محسوس کررہے ہیں۔زندگی کے ایک ایک لمحے کا اسلوب آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ میں موجود ہے۔اللہ کریم ہمارے حکمرانوں کو بھی نظام مصطفے ﷺ کے نفاذ کی توفیق عطا فرمائیں۔قوانین جتنے بھی بنا لیں اگر ان کا اطلاق نہیں ہوگا تو ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ہمیں تو سوچنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ ہمارے پاس بنا بنایا نظام موجودہے بس اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔صرف اسلامی نظام سے ہی ہم موجودہ مشکلات سے نکل سکتے ہیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا سالانہ اجتماع کے آخری روز خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔
انہوں نے کہا کہ قلب انسانی احساسات کا گھر ہے۔اگر بندے کو یہ ادراک ہو جائے کہ میں ہر وقت اللہ کے روبرو ہوں تو نہاں خانہ دل میں اُٹھنے والی نیت صاف ہوتی چلی جاتی ہے۔تمام اعمال کا انحصار اسی نیت پر ہے۔آج ہمارے قلوب بے کیف ہو چکے ہیں ان میں احساس باقی نہیں رہا۔تمام طرح کی کیفیات کا گھر قلب انسانی ہے اسی میں دوستی کی کیفیت ہوتی ہے اسی میں دشمن بھی بستے ہیں۔ اگر اس دل میں اللہ کریم کی محبت پیدا ہو جائے تو بندہ مرضیات باری میں فنا ہو جاتا ہے اسے وہی پسند ہوتا ہے جو اللہ کریم کو پسند ہو۔
یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ مرکز دارالعرفان منارہ میں چالیس روزہ سالانہ اجتماع جاری تھا جس کا آج آخری روز تھا جس میں تقابلی جائزہ بھی لیا گیا اورڈویژن کی سطح پر بہتر کارکردگی پر حضرت نے اپنے دست مبارک سے زمہ داران میں اعزازی شیلڈ پیش کیں۔ ملک کے طول و عرض کے علاوہ بیرون ممالک سے بھی سالکین سلسلہ عالیہ تشریف لائے اور اپنی روحانی تربیت کی۔اس کے علاوہ جناب فاروق ستار ایم این اے کراچی سے خصوصی طورپر تشریف لائے۔
آخر میں حضرت نے خصوصی اجتماعی دعا فرمائی اور ملک و قوم کے لیے اور مسلم امہ کے لیے بھی خصوصی دعائیں کی گئیں۔
آج ہمارے معاشرے میں بے چینی کی بڑی وجہ ہماری بداعمالیاں ہیں۔ہمارے بد اعمال ہی ہیں جن کا
