آبادی کا بڑھتا ہوا سیلاب!
انجینئر ندیم ممتاز قریشی
پاکستان میں تیزی سے بڑھتا ہوا آبادی کا سیلاب قومی وسائل میں کمی کے ساتھ عوامی پریشانیوں میں بھی اضافے کا باعث بن رہا ہے،ملک کی مجموعی آبادی اس وقت 24 کروڑ سے بھی تجاوز کرچکی ہے اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کے 10 بڑے ممالک میں پاکستان نے برازیل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اس سے پانچویں پوزیشن چھین لی ہے مگر اس حوالے سے کسی کے کانوں پر جوں تک بھی نہیں رینگی اور نہ ہی کسی نے اس میں کمی کے بارے میں سوچا۔ملک کا کل رقبہ 796095 مربع کلو میٹر ہے اور آبادی کی اوسط 287 افراد فی مربع کلو میٹر بنتی ہے۔آزادی کے تین سال بعد 1950ء میں پاکستان کی مجموعی آبادی پونے چار کروڑ سے کچھ زیادہ تھی مگر اب آبادی میں تقریبا ًچھ گنا اضافہ ہوچکا ہے۔پاکستان میں سالانہ شرح افزائش 2.8 فیصد ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر آٹھ سیکنڈ میں ایک فرد کا اضافہ ہورہا ہے۔آبادی اگر اسی تناسب سے بڑھتی رہی تو 2040ء تک بارہ کروڑ مزید نوکریوں کی ضرورت ہوگی،85 ہزار مزید پرائمر ی سکول بنانے ہوں گے اور ایک کروڑ 90 لاکھ اضافی مکانات تعمیر کرنے ہوں گے جبکہ پاکستان میں پہلے ہی مکانات کی کمی اور زرعی اراضی کو رہائشی کالونیوں میں تبدیل کرنا زرعی اجناس کی قلت کا سبب بن رہا ہے اس کے باوجود پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں اب بھی ایک ہزار بچوں میں سے 62 بچے ایک سال کی عمر سے پہلے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں اور 5 سال سے کم عمر کے 44 فیصد بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔بے ہنگم اور بے لگام آبام شرح خواندگی میں بھی کمی کا باعث بن رہی ہے ملک میں شرح خواندگی اس وقت 58.92فیصد ہے،خیبر پختوانخواہ کی شرح خواندگی 54.02فیصد،فاٹا 36.08،پنجاب 64.04،سندھ45.29،بلوچستان24.83اور اسلام آباد میں یہ شرح72.38ٰٖفیصد ہے۔ یہ صورت حال مستقبل قریب میں بحران کی شکل اختیار کرسکتی ہے اس سلسلے میں پانی کے ذخائر پر بڑھتا ہوا بوجھ ملک کو جلد ایک پریشان کن صورت حال سے دوچار کرسکتا ہے۔1981 ء تک ہمارے ہاں پانی وافر مقدار میں مہیا تھا اور فی کس دستیابی 2.123 مکعب میٹر تھی۔2017ء میں پانی کی فی کس دستیابی انتہائی کمی کا شکار ہوکر 861 مکعب میٹر فی کس کی سطح پر آگئی اگر آبادی کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب کے آگے بند نہ باندھا گیا تو بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ پانی کی فی کس دستیابی میں کمی کا یہ مسئلہ عنقریب مزید سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے۔ صرف پانی ہی نہیں بڑ ھتی ہوئی آبادی سے اور بھی کئی مسائل جنم لیتے ہیں اور اس سے زرعی اراضی اور اس کے استعمال پر اثرات بھی توجہ طلب ہیں۔ زرعی اراضی کی دستیابی جو کہ 60 اور 70 کی دہائی میں کثرت سے تھی، اس میں بھی خطرناک حد تک کمی آئی ہے اس وجہ سے لوگ زراعت کا کام چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ شہری پھیلاؤ میں اضافہ زرعی اراضی کو مزید دباؤ کا شکار بنا رہا ہے۔زرعی اراضی کا غیر زرعی مقاصد کیلئے استعمال تیزی سے پھیلتا جارہا ہے جو کہ ملک کو ایک اور بڑے بحران کی طرف لے جا رہا ہے اور وسائل و آبادی میں عدم توازن کی وجہ سے پاکستان میں رہنے والوں کی ایک بڑی تعداد کو روزگار،تعلیم،صحت اور پانی کی بنیادی اور معیاری سہولیات میسر نہیں ہیں۔اسی طرح فضائی، زمینی و آبی آلودگی میں بڑی سرعت سے اضافہ ہو رہا ہے جو مختلف قسم کی بیماریوں اور ان کے پھیلاؤ میں اضافے کا باعث ہے مگر اس کے ساتھ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آبادی کے بڑھتے ہوئے اس پھیلاؤمیں کس طرح کمی لائی جائے یقینا اس کیلئے حکومتی کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے پہلے حکومت کی طرف سے خاندانی منصوبہ بندی دو بچے خوشحال گھرانہ پروگرام موثر انداز میں چلایا جارہا تھا اسے اب مزید دلچسپی کے ساتھ چلانے کی ضرورت ہے اس کے ساتھ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ آبادی کے کنٹرول میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ موجودہ وقت کم بچے خوشحال گھرانہ پر عملی طور پر عملدرآمد کا تقاضا کررہا ہے اگر اس پر عمل نہ کیا گیا تو آبادی کا بڑھتا ہوا سیلاب اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے جائے گاتاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے ذہنوں کو تبدیل کیا جائے اور ایسے اہداف تشکیل کرنے کی ضرورت ہے جو عملی کارکردگی پر مبنی ہوں۔
