BBC Urdu TV

آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت شرح سود میں اضافہ معیشت کے لیے خطرناک ہوگا: فراز الرحمٰن

آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت شرح سود میں اضافہ معیشت کے لیے خطرناک ہوگا: فراز الرحمٰن

کراچی : (رپورٹ:عاصم آرائیں جہلمی)

سابق چیئرمین کاٹی، فراز الرحمٰن نے خبردار کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے دباؤ کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی شرح سود میں ممکنہ اضافہ ملکی معیشت کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

فراز الرحمٰن نے آئی ایم ایف کی رپورٹ "2024 آرٹیکل IV مشاورت اور توسیعی فنڈ سہولت کے تحت درخواست” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے نے حکومت پر زور دیا ہے کہ اگر افراط زر میں نئے دباؤ پیدا ہوتے ہیں یا بیرونی دباؤ مالیاتی استحکام کو متاثر کرتا ہے تو شرح سود میں اضافہ کیا جائے۔ تاہم، آئی ایم ایف نے مزید کہا ہے کہ پالیسی ریٹ میں کمی صرف اس وقت کی جائے جب بنیادی افراط زر میں کمی اور افراط زر کی توقعات دوبارہ مستحکم ہوں۔

فراز الرحمٰن نے حکومت کو متنبہ کیا کہ شرح سود میں اضافہ کاروباری طبقے اور معیشت پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے، جس سے صنعتی پیداوار اور معاشی ترقی کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات سے عوام پر بھی مہنگائی کا بوجھ بڑھ سکتا ہے اور روزگار کے مواقع کم ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ آئی ایم ایف کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے ملک کی معاشی صورت حال کو مدنظر رکھے اور ایسے فیصلے کرے جو معیشت کو مزید مشکلات میں نہ ڈالیں۔ فراز الرحمٰن نے کہا کہ ضروری ہے کہ حکومت افراط زر کو قابو میں رکھنے اور صنعتوں کو مضبوط کرنے کے لیے اقدامات کرے تاکہ معیشت مستحکم ہو اور عوام کو ریلیف مل سکے۔

Exit mobile version