BBC Urdu TV

آئینی عدالت کے قیام کے ساتھ نظام انصاف کو موثربنانے کی ضرورت ہے:انجینئر ندیم ممتا زقریشی

آئینی عدالت کے قیام کے ساتھ نظام انصاف کو موثربنانے کی ضرورت ہے:انجینئر ندیم ممتا زقریشی

ملک کا نظام انصاف اس قدر پیچیدہ و مشکل ہے کہ عام آدمی اس کے حصول سے بھی کتراتا ہے:گفتگو

آئینی عدالت کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے سپریم کورٹ کے اختیارات کو تقسیم کیا جائے:چیئرمین
مقدمات کا التوا اور فیصلوں میں تاخیر عدالتی نظام کی کارکردگی پرسوالیہ نشان، مگر آئینی عدالت کا قیام مسئلے کا حل نہیں
پاکستانی حکمرانوں کا شروع دن سے یہ المیہ رہا ہے کہ انہوں نے عوام اور ملک کودرپیش مسائل کے حل پر توجہ نہیں دی

چیئر مین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ آئینی عدالت کے قیام کے ساتھ انصاف کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے،ملک میں موجود نظام انصاف اس قدر پیچیدہ اور مشکل ہے کہ عام آدمی اس کے حصول سے بھی کتراتا ہے اور جو اس دروازے تک پہنچ جاتے ہیں انہیں کئی کئی سالوں تک انتظار کی اذیت سے دوچار ہونا پڑتا ہے،انصاف کے حصول کو سہل اور آسان بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عدالتیں مظلوموں کے لئے پناہ گاہ اور ظالموں کا احتساب ہو،آئینی عدالت کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے سپریم کورٹ کے اختیارات کو تقسیم کیا جائے کیونکہ اس سے جہاں سپریم کورٹ کی اتھارٹی پر ضرب لگی گی وہاں یہ ملک کے عدالتی ڈھانچے کے لیے بھی تباہ کن ہوسکتا ہے،اصلاحات کی گنجائش،ضرورت اور اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر ہر فیصلے کے عوامل و عواقب بھی واضع ہونے چاہیں۔ان خیالات کا اظہار آئینی عدالت کے قیام کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ مقدمات کا التوا اور فیصلوں میں تاخیر ہمارے عدالتی نظام کی کارکردگی پر بلاشبہ بڑا سوالیہ نشان ہے تاہم اس کیلئے آئینی عدالت کا قیام مسئلے کا حل نہیں کیونکہ مقدمات کا التوا ماتحت عدالتوں اور ہائی کورٹس کی سطح پر ہے۔اس کے لیے موجودہ عدالتی نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ پاکستانی حکمرانوں کا شروع دن سے یہ المیہ رہا ہے کہ انہوں نے عوام اور ملکی مسائل کے حل پر توجہ دینے کی بجائے ذاتیات کو اولین ترجیح دیتے آئے ہیں جس کی وجہ سے اجتماعی مسائل اور پریشانیوں کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
25-09-2024

Exit mobile version