آئینی عدالتوں کا قیام، پارلیمنٹ کی جانب سے قانونی اور ائینی اقدام۔
اسلام آباد(نمائندہ کنول رباب)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق آئینی عدالت کا قیام پارلیمنٹ کی جانب سے آئین کی تشریح اور نفاذ کے لیے ایک قانونی اقدام ہے جبکہ یہ عدالت خاص طور پر آئینی معاملات، بنیادی حقوق اور بین الحکومتی تنازعات پر توجہ مرکوز کرے گی اور اس کا مقصد قانونی کارروائیوں کو آئینی اصولوں کے مطابق رکھنا اور عدالتوں میں موجود بیک لاگ کو کم کرنا ہے۔پاکستانی آئین کا آرٹیکل 239 پارلیمنٹ کو دو تہائی اکثریت کے ساتھ کسی بھی آئینی شق میں تبدیلی کا اختیار دیتا ہے جو پارلیمنٹ کی قانون سازی کی طاقت کو مزید مضبوط کرتا ہے۔آئین کے آرٹیکل 175 کے تحت سپریم کورٹ، فیڈرل شریعت کورٹ، اور ہائی کورٹس کی تشکیل اور دائرہ اختیار واضح کیا گیا ہے، یہ آرٹیکلز عدلیہ کے مختلف درجات کی وضاحت کرتے ہیں اور عدلیہ اور دیگر ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کی علیحدگی کا خاکہ پیش کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے پارلیمنٹ کو عدالتوں کے دائرہ اختیار کا تعین کرنے کا حق حاصل ہے۔اگر دیکھا جائے تو آئینی عدالت کے قیام کے لیے ججوں کی تقرری اور برطرفی میں اصلاحات کی ضرورت ہے جبکہ ججوں کی تقرری کے لیے شفاف معیار متعین کیا جانا چاہیے، تاکہ بہترین قانونی ماہرین کو منتخب کیا جا سکے، اس کے ساتھ، عدالت کی تشکیل اور دائرہ اختیار کو بھی واضح کیا جانا چاہیے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئینی اصلاحات کے ذریعے بنیادی حقوق میں توسیع کی جانی چاہیے، خاص طور پر آرٹیکل 32، 34، اور 37 کے حوالے سے۔ یہ آرٹیکلز ریاست کی فلاح و بہبود اور مقامی حکومتوں کی بااختیاری پر زور دیتے ہیں۔عدالتی اصلاحات کے تحت 2023 پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو ہائی کورٹس اور آئینی عدالت میں بھی نافذ کیا جانا چاہیے۔ اس میں کیس کی تفویض، بینچ کی تشکیل، اور عوامی مفادات کے معاملات پر توجہ دی جائے گی جبکہ یہ اقدام عدالتوں میں شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنائے گا .سیاسی مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئینی عدالت، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں مقدمات کے فیصلے کے لیے چھ ماہ کی مدت مقرر کی جانی چاہیے جبکہ یہ اقدام مقدمات کی سست روی کو ختم کرنے اور عوامی مسائل کے فوری حل کی ضمانت دے گا اس کے علاوہ اس طرح سے قانونی نظام کی افادیت اور عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔
