*یوٹیوبر کو پابند پروفیشل ازم رکھنا ناگزیر بن گیا*

*یوٹیوبر کو پابند پروفیشل ازم رکھنا ناگزیر بن گیا*
*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی*
بڑے افسوس اور دکھ کی بات تو یہ ھے کہ حکومت اور ریاست جب آزادی فراہم کرتی ھے تو اس قوم کا 90 فیصد طبقہ آزادی کو مثبت پہلو کے بجائے منفی پہلو کی طرف زیادہ رخ کرکے اپناتے ہیں۔ میں اپنے 25 سالہ الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا میں گزشتہ چند برسوں سے دیکھ رھا ھوں کہ شوشل میڈیا نے جہاں پاکستانی عوام کو کمانے کا راستہ دکھایا وہیں اس قوم نے اندھے بہرے گونگے عقل سے نابلد بھی کود بیٹھے۔ ہر کام کا طریقہ کار اور احتیاطی تدابیر ہوتی ہیں مگر اس شعبہ میں 90 فیصد گھسنے والوں نے کوئی طریق اور احتیاط نہیں برتیں گویا جانوروں کی بھیڑ چال۔ اسی لئے زیادہ تر دیکگا گیا ھے کہ یوٹیوبر ہو یا ٹک ٹکاکر فیسبک یا انسٹافون وغیرہ وغیرہ اپنے کمانے کی غرض سے حال کردہ رقم سے تعلق رکھتے ہیں چاہے اس میں کسٹمر زہر ہی کیوں نہ فروخت ھورھا ھو جو عوام کی بڑی تعداد کی ہلاکت کا باعث ہو۔ خدا کے واسطے تمام شوشل میڈیا سے کمانے والے اپنے اندر احساسِ شرم، حیاء درد تکیف عوام کی بھی رکھو جانو پہنچانو کہ کلائنٹ کیوں سستا فروخت کررھا ھے یہ جانے بغیر کہ اسے سستا سامان و اشیاء پکوان کیلئے کہاں سے مل رھی ہیں آیا حرام یا ملاوٹ شدہ یا موذر تو نہیں جنکے کھانے اور پینے سے عوام کی زندگی بیشمار موذی بیماروں کا شکار اور مبتلا ہوجائے۔ اس وقت پاکستان بھر میں 90 فیصد غیر پروفیشنل شوشل میڈیا سے کمانے والے کام کررھے ہیں جنہیں آداب و سلیقہ تک نہیں آتا اس میں ٹیکنکس اصول کیساتھ ساتھ اخلاقیات بھی شامل ہیں۔ اگر یہی سلسلہ یونہی چلتا رھا تو پاکستان اور پاکستانیوں کو بہت بڑا ناتلافی نقصان پہنچ سکتا ھے اس بابت حکومتی ایس او پیز کو لازمی نافذ کریں اور قوانین کی حدود میں پابند رکھیں۔ شکریہ


