BBC Urdu TV

ہم اپنے سمندر کو آلودہ اور قدرتی وسائل کو تباہ کر رہے ہیں اور مینگرووز کاٹ کر ہر چیز کو خطرے

*ہم اپنے سمندر کو آلودہ اور قدرتی وسائل کو تباہ کر رہے ہیں اور مینگرووز کاٹ کر ہر چیز کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ مشیر برائے وزیراعلیٰ سندھ سید نجمی عالم*

*سائنسی تحقیق فطرت کے رازوں کو کھولنے کی کلید ہے۔ جی ہون ہانگ*

*سمندروں اور سمندری حیات کے تحفظ کے لئے سخت پالیسیاں اپنانے کی ضرورت ہے۔ عذرا میڈوز*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) مشیر برائے وزیراعلیٰ سندھ سید نجمی عالم نے کہا کہ ہم اپنے سمندر کے ساتھ جو کچھ کررہے ہیں وہ قابل توجہ اور لمحہ فکریہ ہے، اگر یہ ہی سلسلہ جاری رہا تو ہم بلیو اکنامی کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں کرسکتے۔ گزشتہ سال ہم نے صرف چار سو اکہتر ملین ڈالر کی برآمدات کی جبکہ ایک بہت چھوٹے سے ملک ویتنام نے نو ارب ڈالر کی برآمدات کی کیونکہ وہ اپنے سمندروں کو محفوظ بنا رہے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم سمندروں کی حفاظت کے بجائے اس میں گندہ پانی پھینک رہے ہیں، براہ راست کچرا سمندروں میں جانا ایک بڑا خطرہ ہے، ہم اپنے سمندر کو آلودہ کر رہے ہیں اور قدرتی وسائل کو تباہ کر رہے ہیں۔ ہم مینگرووز کاٹ رہے ہیں اور ہر چیز کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے محققین اور طلباوطالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنی تحقیق اور سفاشات اپنے اور کانفرنس تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کو حکومتی حلقوں تک پہنچائے تاکہ آپکی تحقیق اور سفارشات کو پالیسیوں کا حصہ بنایا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ حیوانیات کے زیر اہتمام اور نو مختلف شعبہ جات، سینٹرز و انسٹی ٹیوٹس جن میں انسٹی ٹیوٹ آف میرین سائنسز، سینٹر آف ایکسلینس فار ویمنز اسٹڈیز، ڈاکٹر محمد اجمل خان انسٹی ٹیوٹ آف سسٹین ایبل ہیلوفائٹ یوٹیلائزیشن، انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمینٹل اسٹڈیز، شعبہ باٹنی، انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، شعبہ میتھمیٹکس، اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر اور سینٹر آف ایکسلینس فار ویمنز اسٹڈیز شامل ہیں کے اشتراک سے منعقدہ تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان:”بحری حیاتیاتی تنوع، سماجی، ماحولیاتی پہلو اور ٹیکنالوجی“ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اختتامی تقریب کا اہتمام چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں کیا گیا۔ نجی عالم نے مزید کہا کہ جب آپ سمندر میں جاتے ہیں تو اسکا مطلب ہے کہ آپ اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اگر سمندر اچھا ہوگا تو ماہی گیری کے پیشہ سے وابستہ افراد کو انکی محنت کا پورا پورا معاوضہ ملے گا اور پاکستان کی برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔ اگر ہم نے اپنے سمندر کی حفاظت کے لئے فوری اقدامات نہ کئے اور اس میں پھینکے جانے والے گندے پانی اور زہریلے مادوں کا سدباب نہیں کیا تو اس پیشہ سے وابستہ افراد کی بہت بڑی تعداد بیروز گار ہوسکتی ہے۔ ایسٹ چائنا نارمل یونیورسٹی شنگھائی چائنا کے جی ہون ہانگ نے کہا کہ سائنسی تحقیق فطرت کے رازوں کو کھولنے کی کلید ہے۔ وائرلیس سائنسی تحقیق اور انجینئرنگ کی ایجادات سے لے کر، ان رازوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے، انسانوں کو بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر چیز کے لئے سائنسی طاقتوں کی ضرورت ہوتی ہے کہ کس طرح کنٹرول کیا جائے، کس طرح بہتر بنایا جائے، کس طرح انتظام کیا جائے، وسائل کیا ہیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کو کیسے کم کیا جائے۔ اسکول آف بائیو ڈائیورسٹی، ون ہیلتھ اینڈ ویٹرنری میڈیسن، یونیورسٹی آف گلاسگو، اسکاٹ لینڈ، برطانیہ کی عذرا میڈوز نے کہا کہ وہ پر امید ہیں کہ نوجوان یقینی طور پر ملک کو آگے بڑھائیں گے کیونکہ انہوں نے پاکستان میں طلباء اور نوجوانوں میں بہت زیادہ صلاحیتیں دیکھی ہیں۔ انہوں نے پاکستانی حکام پر زور دیا کہ وہ اپنے سمندروں اور سمندری حیات کے تحفظ کے لئے سخت پالیسیاں اپنائیں جو آنے والی نسلوں کے لئے بہت ضروری ہے۔ کانفرنس کی کنوینر پروفیسر ڈاکٹر صالحہ رحمان نے بتایا کہ ان تین دنوں کے دوران ہم نے اختراع اور بین الاقوامی تعاون کی سہولت دیکھی یہ ایک مختصر سفر تھا لیکن پائیدار سمندری مستقبل کے لئے مشترکہ تصورات سے بھرا ہوا تھا۔ اس کانفرنس میں ہمیں بین الاقوامی ماہرین سننے اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کے مواقع میسر آئے۔ مجھے امید ہے کہ اس کانفرنس کے مثبت اور دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ کانفرنس کی اختتامی تقریب میں کلمات تشکر کانفرنس کے سیکرٹری ڈاکٹر فیصل احمد خان آفریدی نے ادا کئے۔

Exit mobile version