گورنر پختونخوا نے یونیورسٹیز ترمیمی بل اعتراض لگا کر واپس بھیجوا دیا۔
آئین کے آرٹیکل 115(5) کے تحت بل کو بشمول سرٹیفکیٹس بطور منی بل منظوری کیلئے بجھوایا گیا ہے۔فیصل کریم کنڈی
پشاور(نمائندہ فاطمہ جغفر)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا ( کے پی) نے یونیورسٹیز ترمیمی بل پر اعتراض لگاکر اسپیکر کو واپس بھجوا دیا۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے ترمیمی بل واپس بھجواتے ہوئے لکھا کہ آئین کے آرٹیکل 115(5) کےتحت بل کوبشمول سرٹیفکیٹس بطور منی بل منظوری کیلئے بجھوایا گیا ہے۔گورنر کے پی کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 115(1) کے مطابق یونیورسٹیز ترمیمی بل منی بل کے دائرہ کار پر پورا نہیں اترتا، یونیورسٹیز ترمیمی بل کا تعین کیا جائے کہ یہ منی بل ہے یا نہیں۔واضح رہے کہ رواں ماہ ہی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان نے ‘خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ترمیمی بل 2024’ پیش کیا تھا جسے ایوان نے منظور کرلیاگیا تھا۔ترمیمی بل کے تحت یونیورسٹی کا چانسلر گورنر کے بجائے وزیراعلیٰ ہوں گے، وزیراعلیٰ اکیڈمک سرچ کمیٹی کےتجویزکردہ 3 ناموں میں ایک کو وائس چانسلر مقرر کریں گے۔مزید برآں ترمیمی بل کے تحت وائس چانسلر کی تقرری کا دورانیہ 4 سال کا ہوگا جبکہ وائس چانسلر کی غیرتسلی بخش کارکردگی پرتقرری کا دورانیہ ختم کیا جا سکےگا۔
