سوہاوہ

گزشتہ کچھ دنوں سے فلسطین میں جو ظلم ڈھائے جارہے ہیں ان کو دیکھوں یاان ڈھائے جانے

گزشتہ کچھ دنوں سے فلسطین میں جو ظلم ڈھائے جارہے ہیں ان کو دیکھوں یاان ڈھائے جانے والے جوظلم ہیں جو ہماے کشمیر میں بھائی ہیں

انھیں دیکھوں۔یہاں بات ساعتوں یا دنوں کی نہیں ہے ایک طرف ظالم ہے اور ایک طرف مظلوم ہیں اورایک کربلا ہے کہ بپا کیے جارہے ہیں۔

مجھے جب یہ کہا گیا کہ آپ اس سے متعلق بات کریں یا اپنی مذمتی گفت گو یا اس سے متعلق اپنی رائے بتائیں تو یقین مانیں میں بھی دیکھ رہا ہوں،سن رہا ہوں لیکن جراء ت نہیں ہورہی کہ میں مذمتی الفاظ میں مذمتی بیان میں کیا کہوں اس لیے کہ یہ آج کوئی نئی بات یا پہلی دفعہ نہیں ہورہا یہ عمل امت کے ساتھ رواج اختیار کر گیا ہے اور جو مذمت کی جاتی ہے یہ ان مظلوموں کے ساتھ اظہارِ محبت یا تعاون کے لیے نہیں کی جاتی۔یہ اس لیے کی جاتی ہے کہ ایک دوسرے کو جو طعنے دیے جاتے ہیں کہ فلاں کی مذمت نہیں آئی،فلاں کی مذمت نہیں آئی تو مذمت میں بھی جو اگر ہم نے اپنی ذات رکھی ہوئی ہے تو اسی سبب یہ حال ہے جو آج ہمارا ہو رہا ہے۔

وہ قوم جو ایک بیٹی کی آواز پرکہاں سے اٹھی کہاں آکر محمد بن قاسم نے انصاف مہیا کیا۔آج اس قوم کی بیٹی نہیں بیٹیاں،ان کی عزتیں لُٹ رہی ہیں اور ہمارا ٹکراؤ کیا ہے کہ کس کے مذمتی الفاظ چھوٹے ہیں اور بڑے ہیں۔یہ انحطاط ہے بے عملی کی اور اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہ ظلم نہ ہوں جو کہ ہماری ذمہ داری ہے،دینی ذمہ داری ہے کہ انصاف ہو مابین انصاف ہومخلوق کے ساتھ انصاف ہو توپھرضرورت ہو گی ان حصو ں کو اختیار کرنے کی کہ جس کی تعلیم ریاست مدینہ میں ملتی ہے۔تئیس سال میں نزول قرآن ہے اورتیئس سال میں معلوم دنیا کے تین حصوں پر اس حکم کا نافذ ہونا ہے۔ کیسے؟ کوئی ابہام نہیں ہے کہ اتباع محمدرسول اللہ ہرسوال کا جواب ہے۔تو جو رواج ہے اس کے ساتھ میں بھی ریکاڑد کرادیتا ہوں کہ بڑے مذمتی الفاظ اور بڑے دکھ کی بات ہے۔ دکھ تو ہے لیکن وہ دکھ کیسا ہے جو علاج نہ ڈھونڈے جو دکھ کیسا جو شفا کی تلاش نہ کرے، وہ دکھ کیسا جو عمل پہ نہ آئے۔اللہ ہم پر رحم فرمائے ہمیں ایمان عطا فرمائے۔ کہ ہم نہ صرف ان مظالم کا مقابلہ کرسکیں بل کہ غیرمسلم کے تحفظ کابھی سبب بھی ہو سکیں۔اللہ اس وطن عزیز کی حفاظت فرمائے۔اس کے اداروں کی حفاظت فرمائے،ہمارے جھگڑے آپس کی ضد اور عناد اپنے ملک اور ملک کے اداروں کی تباہی تک ہم کو پہنچا دیتے ہیں ضرورت اس ہوش کی۔اگر ہم مضبوط قدموں پر نہ کھڑے ہوں تو ایسا ہی ہوگا جیسا ہم دیکھ رہے ہیں۔وہاں تک کی مدد کے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے قدموں پر کھڑے ہوں۔اور نتائج ہمارے اختیار میں نہیں ہیں بڑالشکر تھا اہل مکہ کاہر طرح کے سامانِ حرب سے لیس تھااور ہر طرح کا سامانِ حرب ہوتے ہوئے مقابل کیا تھا۔پوری تلواریں بھی نہیں تھیں،کہیں چھڑی تھی،زرہ تو کجا بمشکل ستر ڈھانپا گیا۔منہ میں روزہ ہے اور حصوں میں کھجور دی جارہی ہے لیکن قوت ایمانی تھی۔

اتباع محمد رسول اللہ ﷺ اس درجے کا نصیب تھا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا!یا اللہ سارے کا سارا اسلام لے آیا ہوں۔اللہ کریم ہمیں توفیق عطا فرمائے، غیرت ایمانی عطا فرمائے۔اپنی حصے کا کردار اداکرنے کی توفیق عطافرمائے۔

رپورٹ:مشرف کیانی

MKB Creation

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

MKB Creation
Back to top button

I am Watching You