اہم خبریںسائنس اور ٹیکنالوجی

کیپلر 452 بی بالکل انہیں خصوصیات کا حامل ہے جن کی حامل ہماری یہ زمین ہے۔

کیپلر 452 بی بالکل انہیں خصوصیات کا حامل ہے جن کی حامل ہماری یہ زمین ہے۔

اس کا اپنا ایک سورج ہے جو کہ ہمارے سورج سے قدرے بڑا ہے سورج سے اس سیارے کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے جتنا ہماری زمین کا فاصلہ سورج سے ہے۔ یہ سیارہ زمین سے تقریباً ساٹھ فیصد بڑا ہے اور یہاں موجود کشش ثقل زمینی کششِ ثقل سے زیادہ طاقتور ہے۔
سورج سے یہ فاصلہ اس لئے بھی اچھا مانا جاتا ہے کہ اگر وہاں پانی موجود ہے تو اس فاصلے پر ہوتے ہوئے وہ پانی نہ تو زیادہ گرمی کی وجہ سے بھاپ بنے گا اور نہ ہی زیادہ ٹھنڈ کی وجہ سے جمے گا۔ تاہم، چونکہ اس کا سورج حجم میں ہمارے سورج سے بڑا ہے اس لئے وہاں گرمی قدرے زیادہ ہوگی۔ کیپلر 452 پر ایک سال 385 دن کا ہے جو کہ زمین سے صرف بیس روز زیادہ ہیں۔
کیپلر 452 کا سورج ہمارے سورج سے ڈیڑھ ارب سال پرانا ہے اور کیپلر 452 زمین سے بھی پہلے سے اس سورج کے گرد گردش کر رہا ہے یہ اتنا وقت ہے کہ وہاں زندگی بننا شروع ہو سکے اس لئے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ شاید نباتات کی شکل میں ہی وہاں زندگی موجود ہو سکتی ہے۔
کیپلر 452 ان تمام خصوصیات کے ساتھ ہمارے پہنچ سے بہت باہر ہے. یہ سیارہ زمین سے 1400 نوری سال دور ہے اگر روشنی کی ایک بیم کو زمین سے چھوڑا جائے تو اس سیارے تک پہنچنے میں 1400 برس لگیں گے۔ روشنی کی رفتار 670 ملین میل فی گھنٹہ ہے۔ اس طرح اگر انسانوں کو لے کر ایک جہاز جس کی رفتار نیو ہورائزن جتنی ہو (جو خلائی جہاز حال ہی میں پلوٹو تک پہنچا، یاد رہے زمین سے پلوٹو تک جانے میں اسے نو برس لگے تھے) زمین سے نکلے تو اسے تقریباً 2 کروڑ ساٹھ لاکھ برس لگیں گے اس لئے جب تک انسان کوئی ایسا خلائی جہاز تیار نہیں کر لیتا جس کی رفتار انتہائی تیز ہو تیار نہیں ہوتا ہم وہاں تک پہنچنے کا صرف سوچ ہی سکتے ہیں ?

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You