*کراچی یونیورسٹی عدم توجہگی کا شکار*
*سندھ کی سب سے بڑی سرکاری درسگاہ، سائیں مراد علی شاہ کی توجہہ سے محروم*
*وزیراعلیٰ سندھ کو سینئر جرنلسٹ کراچی جاوید صدیقی کا مشورہ*
*کراچی یونیورسٹی میں روڈ کارپیٹنگ ناگزیر ھوچکا ھے*
*کراچی یونیورسٹی کیلئے سولر سسٹم ناگزیر*
کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے پریس کلب کراچی میں صحافی دوستوں کی نشست کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی یونیورسٹی گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ کی مکمل عدم توجہگی کا شکار ھے، انھوں نے بتایا کہ خود اس بابت کراچی یونیورسٹی جاکر مشاہدہ کیا ھے۔ جاوید صدیقی نے کہا کہ سندھ کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہونے کے باوجود سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار؛ طلبہ و طالبات کیلئے سفری بسیں انتہائی قلیل اور اہم ترین شعبہ جات میں توانائی (بجلی) کا فقدان پایا گیا۔ جاوید صدیقی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین، چیئر پرسن اور وزیراعلیٰ سندھ کی توجہہ کراچی یونیورسٹی میں سولر سسٹم بہم پہنچانے کیلئے دلائی، انھوں نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی میں ملک بھر کی یونیورسٹیز سے زیادہ طالبعلم تعلیم حاصل کررھے ہیں لیکن ایک جانب فیسوں میں اضافہ کا عمل جاری رکھا گیا ھے مگر سہولیات اور ضروریات کا قطعی خیال نہیں۔ سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے اس بابت تحقیق کی تو پتا چلا کہ کراچی یونیورسٹی کو دیگر سرکاری یونیورسٹیوں کے مقابلے میں فنڈ کی کمی دیکھی گئی۔ جاوید صدیقی نے سندھ حکومت بلخصوص آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کو مشورہ دیا ھے کہ یہ آپ ہی کے صوبے کی قدیم و وسیع ترین یونیورسٹی ھے جو آپکے عدم توجہگی کی بناء پر خستہ حالی اور مشکلات و مسائل سے دوچار ھے۔
